]١٤٩٦[(٧) ولو وھب دقیقا فی حنطة او دھنا فی سمسم فالھبة فاسدة فان طحن وسلم لم یجز]١٤٩٧[ (٨) واذا کانت العین فی ید الموھوب لہ ملکھا بالھبة وان لم یجدد فیھا قبضا]١٤٩٨[ (٩) واذا وھب الاب لابنہ الصغیر ھبة ملکھا الابن بالعقدوان لم
]١٤٩٦[(٧) اگر ہبہ کیا آٹے کا گیہوں میں یا تیل کو تلوں میں تو ہبہ فاسد ہے، پس اگر اس کو پیس دیا اور ہبہ کیا تو جائز نہیں ہوگا۔
تشریح آٹا ہبہ کیا اس حال میں کہ وہ گیہوں کے اندر ہے یا تل کا تیل ہبہ کیا اس حال میں کہ وہ ابھی تل میں ہے تو یہ ہبہ جائز نہیں ہے۔ پس اگر گیہوں پیس کر آٹا بنا دیا اور ہبہ کیا تب بھی درست نہیں ہے یا تل پیس کر تیل نکال لیا اور ہبہ کیا تب بھی درست نہیں ہوگا۔ہاں دوبارہ از سر نو آٹا اور تیل ہبہ کرے تو درست ہوگا اور یہ دوسرا ہبہ ہوگا۔
وجہ یہاں آٹا اور تیل ہبہ کرتے وقت مشاع اور مشترک نہیں ہے بلکہ معدوم ہیں ۔اور یہ دونوں پیسنے کے بعد وجود میں آئے ہیں ۔اور معدوم چیز کا ہبہ ہی درست نہیں ہے۔اس لئے بعد میں پیسنے کے بعد بھی ہبہ درست نہیں ہوگا۔
نوٹ مسئلہ نمبر ٥ میں مشترک چیز کا ہبہ تقسیم کے بعد اس لئے جائز ہو گیا تھا کہ وہ ہبہ کے وقت موجود ہے صرف تقسیم شدہ نہیں ہے۔اور موجودہ مسئلے میں آٹا اور تیل ہبہ کے وقت موجود ہی نہیں ہیںمعدوم ہیں۔اس لئے بعد میں آٹا اور تیل بننے کے بعد بھی ہبہ درست نہیں ہوا ۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ معدوم چیز کا ہبہ درست نہیں ہے۔
لغت دقیق : آٹا۔ سمسم : تل۔ طحن : پیسا۔
]١٤٩٧[(٨)اگر ہبہ کی ہوئی چیز موہوب لہ کے ہاتھ میں ہو تو وہ مالک ہو جائے گا ہبہ کرنے سے اگر چہ اس پر نیا قبضہ نہ کیا ہو۔
وجہ (١) پہلے سے موہوب لہ کے قبضہ میں ہے ۔اس لئے دوبارہ نیا قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کیونکہ قبضہ جو شرط ہے وہ پہلے سے ہے ہی (٢) عبد اللہ بن عمر مضبوط اونٹ پر سوار تھے۔اس کو حضورۖ نے خریدا پھر حضورۖ نے اس پر قبضہ نہیں کیا اور عبد اللہ بن عمر کو ہبہ کر دیا۔اور عبد اللہ بن عمر کو ہبہ مکمل کرنے کے لئے نیا قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔جس سے معلوم ہوا کہ ہبہ کی چیز موہوب لہ کے قبضہ میں پہلے سے ہو تو ہبہ کی ملکیت کے لئے دوبارہ قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حدیث یہ ہے۔ عن ابن عمر قال کنا مع النبی ۖ فی سفر وکنت علی بکر صعب فقال النبی ۖ لعمر بعنیہ فابتاعہ فقال النبی ۖ ھو لک یا عبد اللہ (الف) (بخاری شریف ،باب اذا وھب بعیرا لرجل وھو راکبہ فھو جائز ص ٣٥٦ نمبر ٢٦١١)
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ پہلے سے قبضہ ہو تو دوبارہ قبضہ کی ضرورت نہیں۔
]١٤٩٨[(٩)اگر ہبہ کیا باپ نے اپنے چھوٹے بیٹے کو کوئی چیز تو بیٹا اس کا مالک بن جائے گا عقد کرنے سے اگر چہ اس پر قبضہ نہ پایا گیا ہو۔
حاشیہ : (الف) عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ہم حضورۖ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔اور میں ایک مضبوط اونٹ پر سوار تھا۔ پس حضورۖ نے عمر سے کہا اس کو میرے ہاتھ بیچ دو ۔پس حضرت عمر نے بیچ دیا ۔پھر حضور نے فرمایا یہ اونٹ تیرا ہے اے عبد اللہ۔