الھبة فیما یقسم الا محوزة مقسومة ]١٤٩٤[(٥) وھبة المشاع فیما لا یقسم جائزة ]١٤٩٥[(٦) ومن وھب شقصا مشاعا فالھبة فاسدة فان قسمہ وسلمہ جاز۔
پانی تقسیم شدہ نہیں تھا پھر بھی سب کو ہبہ کیا جا رہا تھا۔جس سے معلوم ہوا کہ قابل تقسیم چیز بھی تقسیم شدہ نہ ہو پھر بھی اس کو ہبہ کر سکتے ہیں۔
]١٤٩٤[(٥)اور مشترک کا ہبہ اس چیز کا جو تقسیم نہ ہو سکتی ہو جائز ہے۔
تشریح جو چیز تقسیم نہیں ہو سکتی مثلا حمام اور غسل خانہ جو تقسیم نہیں ہو سکتا ہواور وہ تقسیم کرنے سے کسی کام کا نہیں رہے گا اس کو بغیر تقسیم کئے بھی ہبہ کرنا جائز ہے ۔
وجہ جو چیز تقسیم نہیں ہو سکتی اور تقسیم کرنے سے وہ کسی کام کی نہیں رہے گی ۔اس کو ہبہ میںتقسیم کرنے کی شرط لگائیںگے تو وہ چیز ضائع ہو جائے گی ۔اس لئے اس کے قبضے کے لئے جتنا ممکن ہو سکا اتنا ہی کریںگے۔اور تقسیم کی شرط نہیں لگے گی (٢) حضرت ابو قتادہ نے وحشی گدھا شکار کرکے سب صحابہ کو مشترکہ ہبہ کیا۔اس کو تقسیم کرکے ہبہ نہیں کیا اور حضورۖ نے اس کو جائز قرار دیا۔کیونکہ تقسیم کرکے گوشت پکانا مشکل تھا۔اس لئے مشترکہ ہبہ ہی جائز قرار دیا گیا۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔عن عبد اللہ بن ابی قتادة السلمی عن ابیہ ... فشددت علی الحمار فعقرتہ ثم جئت بہ وقد مات فوقعوا فیہ یأکلونہ ثم انھم شکوا فی اکلھم ایاہ وھم حرم (الف) (بخاری شریف ، باب من استوھب من اصحابہ شیئا ص نمبر ٢٥٧٠) اس حدیث میں سب صحابہ کو مشترکہ طور گدھے کا گوشت ہبہ کیا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ جو چیز تقسیم نہ ہو سکتی ہو اس کو مشترکہ ہبہ کرنا بھی جائز ہے۔اوپر بھی کئی احادیث مشترکہ ہبہ کی گزری۔
]١٤٩٥[(٦) اگر ہبہ کیا مشترک چیز کا کچھ حصہ تو ہبہ فاسد ہے۔پس اگر اس کو تقسیم کر دیا اور سپرد کر دیا تو جائز ہے۔
تشریح مشترک چیز کو اوپر کے آثار کی بنا پر تقسیم کرکے ہبہ کرنا چاہئے ۔لیکن بغیر تقسیم کئے ہوئے ہی ہبہ کر دیا تو ہبہ فاسد ہوگا۔لیکن اگر بعد میں تقسیم کرکے موہوب لہ کو قبضہ دے دیا تب بھی جائز ہو جائے گا ۔
وجہ اصل یہ ہے کہ قبضہ کرتے وقت ہبہ کی چیز تقسیم شدہ ہونی چاہئے۔چاہے اس سے پہلے تقسیم شدہ نہ ہو۔اس لئے قبضہ کرتے وقت چیز کو تقسیم کرکے دے دیا تو ہبہ جائز ہو جائے گا(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔سألت ابن شبرمة عنہ فقال اذا سمی فجعل لہ مائة دینار من مالہ فھو جائز وان سمی ثلثا او ربعا لم یجز حتی یقسمہ (ب) (مصنف عبدالرزاق ، باب الھبات ج تاسع ص ١٠٨ نمبر ١٦٥٣١) اس اثر میں اشارہ ہے کہ تقسیم کردے تو ہبہ جائز ہو جائے گا۔
نوٹ قبضہ کے وقت بھی تقسیم نہیں کرے گا تو ہبہ فاسد ہی رہے گا۔
لغت شقصا : ایک حصہ۔ مشاعا : مشترک۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے گدھے پر حملہ کیا اور اس کو پاؤں کاٹ دیا ۔پھر اس کو لے کر آیا اس حال میں کہ وہ مر چکا تھا،پس صحابہ اس کو کھانے لگے پھر انہوں نے کھانے میں شکایت کی ،اس لئے کہ وہ محرم تھے(ب میں نے ابن شبرمہ سے پوچھا۔کہا اگر متعین کردے اور مال کا سو دینار تو ہبہ جائز ہے اور اگر تہائی یا چوتھائی متعین کرے تو نہیں جائز ہے یہاں تک کہ اس کو تقسیم کردے۔