Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

347 - 457
ھذا الشیء وحملتک علی ھذہ الدابة اذا نوی بالحملان الھبة]١٤٩٣[ (٤) ولا تجوز 

]١٤٩٣[(٤)نہیں جائز ہے ہبہ قابل تقسیم چیزوں میں مگر یہ کہ حقوق سے فارغ ہوں اور تقسیم کیا ہوا ہو۔  
تشریح  اگلے چند مسئلوں کا مدار اس پر ہے کہ موہوب لہ ہبہ کی چیز پر مکمل قبضہ کرے تب اس کی ملکیت ہوگی ورنہ نہیں۔ اور مکمل قبضہ کرنے کے لئے یہ قاعدہ ہے کہ اگر وہ چیز مشترک ہے لیکن تقسیم ہو سکتی ہے تو تقسیم کی ہوئی ہو۔اور دوسروں کے دین اور حقوق سے فارغ ہو تب اس پر موہوب لہ کا قبضہ مکمل شمار کیا جائے گا۔اس لئے مصنف نے فرمایا کہ جو چیز تقسیم ہو سکتی ہو اس میں ہبہ جائز نہیں ہے۔مگر حقوق سے فارغ ہو اور تقسیم شدہ ہو ۔
 وجہ  اس کی دلیل یہ اثر ہے۔کتب عمر بن عبد العزیز انہ لا یجوز من النحل الا ما عزل وافرد واعلم (الف) (مصنف عبدالرزاق ، باب النحل ج تاسع ص ١٠٤ نمبر ١٦٥١٤) اس اثر مین ہے کہ نحل یعنی ہبہ اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ اس کو الگ نہ کیا گیا ہو۔ علیحدہ نہ کیا گیا ہو۔اور جان پہچان کے لئے نشان نہ لگا دیا گیا ہو (٢)عن ابن شبرمة قال ان لم یجز کل واحد منھما ما وھب لہ صاحبہ فلیس بشیء (ب) (مصنف عبدالرزاق ، باب حیازة ما وھب احدھما لصاحبہ ج تاسع ص ١١٦ نمبر ١٦٥٧٠) اس اثر میں بھی ہے کہ شیء موہوب کو محوز نہیں کیا تو قبضہ نہیں ہے (٣)سنن بیھقی میں عمر بن الخطاب کا یہ  قول ہے ۔لا نحلة  یجوزھا الولد دون الوالد (سنن للبیھقی ، باب یقبض للطفل ابوہ، ج سادس ،ص٢٨٢،نمبر١١٩٥٣) جس سے معلوم ہوا کہ ہبہ اس وقت نہیں ہے جب تک کہ اس کو حقوق سے الگ نہ کردے۔  
فائدہ  امام شافعی کے نزدیک یہ ہے کہ شیء موہوب کو اپنے حصے سے الگ نہ بھی کرے اور تقسیم نہ کردے تب بھی موہوب لہ کی ملکیت ہو جائیگی۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ حدیث ہے ۔وقد وھب النبی ۖ واصحابہ لھوازن ما غنموا منھم وھو غیر مقسوم (ج) ( بخاری شریف ، باب الھبة المقبوضة وغیر المقبوضة والمقسومة وغیر المقسومة ص ٣٥٤ نمبر ٢٦٠٣) کہ قبیلہ ہوازن کے لوگوں کو صحابہ نے قید کیا تھا اور ان سے مال غنیمت حاصل کی تھی۔پھر وہ تمام کو قبیلہ ہوازن کی طرف واپس کیا۔حالانکہ واپس کرتے وقت غنیمت اور قیدی مشترک تھے۔جس سے معلوم ہوا کہ بغیر تقسیم شدہ بھی ہبہ کر سکتا ہے (٢)حدیث میں ہے ۔عن سھل بن سعد ان رسول اللہ ۖ اتی بشراب وعن یمینہ غلام وعن یسارہ اشیاخ فقال للغلام اتأذن لی ان اعطی ھؤلاء فقال الغلام لا واللہ لا اوثر بنصیبی منک احدا فتلہ فی یدہ (ج) (بخاری شریف ، باب الھبة المقبوضة وغیرالمقبوضة والمقسومة وغیر المقسومة ص ٣٥٤ نمبر ٢٦٠٥) اس حدیث میں شراب اور 

حاشیہ  :  (الف)حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا کہ ہبہ جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کو الگ کیا جائے اور علیحدہ کیا جائے اور پہچان کے لئے نشان لگایا جائے(ب) ابن شبرمہ نے کہا کہ جو کچھ ہبہ کیا گیا وہ ایک دوسرے سے الگ نہ کیا گیا ہو تو کچھ بھی نہیں ہے یعنی ہبہ درست نہیں ہوگا(ج) جو کچھ ہوازن سے غنیمت میں ملا تھا حضورۖ اور صحابہ نے ان کو ہبہ کیا جو تقسیم شدہ نہیں تھا(ج) حضورۖ کے پاس شربت لایا گیا اور آپۖ کی دائیں جانب لڑکا تھا اور بائیں جانب بڑے بوڑھے تھے تو لڑکے سے کہا،کیا اجازت دیتے ہو کہ ان لوگوں کو دوں ۔تو لڑکے نے کہا نہیں ۔ خدا کی قسم آپۖ کی جانب سے حصے کو کسیکو ترجیح نہیں دوں گا،پس اس کے ہاتھ میں دے دیا۔

Flag Counter