Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

321 - 457
حنیفة رحمہ اللہ و عندھما تصح۔
 
المیت علی رجل  جاز میں نقل کیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حوالہ ہے کفالہ نہیں ہے۔
فائدہ  صاحبین  فرماتے ہیں کہ مکفول عنہ میت پر دین تو لازم تھا اور اس کو ساقط کرنے والی کوئی چیز معاف کرنا یا ادا کرنا نہیں پایا گیا۔ اور جب دین ثابت ہے تو اس کا کفیل بھی بن سکتا ہے۔  
وجہ  وہ ابو قتادہ والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ وہ میت کی جانب سے کفیل بنے ہیں ۔عن سلمة بن اکوع قال کنا جلوسا عند النبی اذاتی بجنازة ... قال ھل ترک شیئا؟ قالوا لا قال فھل علیہ دین؟ قالوا ثلاثة دنانیر قال صلوا علی صاحبکم فقال ابو قتادة صل علیہ یارسول اللہ و علی دینہ فصلی علیہ (الف)(بخاری شریف ، باب اذا احال دین المیت علی رجل جاز ص ٣٠٥ نمبر ٢٢٨٩ ترمذی شریف، باب ماجاء فی الصلوة علی المدیون ص ٢٠٥ نمبر ١٠٦٩) اس حدیث میں حضرت ابو قتادہ نے مدیون کی جانب سے کفالت لی ہے اور انہوں نے کچھ مال چھوڑا بھی نہیں تھا اس لئے کفیل بننا صحیح ہے۔ہم کہتے ہیں کہ یہ تبرع اور احسان کے طور پر تھا جو ہمارے یہاں بھی جائز ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعد میں حضرت ابو قتادہ نے رقم وصول نہیں کی۔
 
حاشیہ  :  (الف) ہم حضورۖ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس وقت ایک جنازہ لایا گیا ... آپۖ نے پوچھا کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ کہا کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ لوگوں نے کہا تین دینار۔ آپۖ نے فرمایا ان پر تم لوگ نماز پڑھ لو۔ پس ابو قتادہ نے فرمایا اے اللہ کے رسول ! اس پر نماز پڑھئے اور مجھ پر اس کے دین کی ذمہ داری ہے۔پھر آپۖ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔

Flag Counter