ولا تجوز الکفالة بمال الکتابة سواء حر تکفل بہ او عبد]١٤٥١[ (٣٤) واذا مات الرجل وعلیہ دیون ولم یترک شیئا فتکفل رجل عنہ للغرماء لم تصح الکفالة عند ابی
وجہ مکاتب پر مولی کا قرض لازم نہیں ہے کیونکہ جب مکاتب مال کتابت ادا کرنے سے عاجز ہو جائے تو مکاتب سے مولی کا قرض ساقط ہو جائے گا اور مکاتب دو بارہ غلام بن جائے گا۔پس جب اصیل پر ہی قرض لازم نہ ہو تو کفیل پر کیسے لازم ہوگا،کفیل کی کفالت تو توثق اور لزوم کے لئے ہوتی ہے۔اور یہاں مکاتب پر قرض کا لزوم ہی نہیں ہے اس لئے اس کی کفالت صحیح نہیں چاہے آزاد کفیل بنے چاہے غلام کفیل بنے (٢) اثر میں ہے ۔عن ابن جریح قال قلت لعطاء کاتبت عبدین لی وکتبت ذلک علیھما قال لا یجوز فی عبدیک وقالھا سلیمان بن موسی قال ابن جریح فقلت لعطاء لم لایجوز؟ قال من اجل ان احدھما ان افلس رجع عبدا لم یملک منک شیئا (الف) (سنن للبیھقی ، باب حمالة العبید، ج عاشر، ص ٥٤٤،نمبر٢١٦٣٤ مصنف عبد الرزاق ، باب الحمالة عن المکاتب ج ثامن ص ٤١٥ نمبر ١٥٧٥٢) اس اثر میں ہے کہ مکاتب کا کفیل بننا صحیح نہیں ہے ۔کیونکہ اگر وہ عاجز ہو کر دو بارہ غلام بن جائے تو کیسے کفیل بننا درست ہوگا۔ اور دو بارہ غلام بن جانے کے لئے حضرت علی کا اثر ہے۔عن علی قال اذا تتابع علی المکاتب نجمان فدخل فی السنة فلم یؤد نجومہ رد فی الرق (ب) مصنف ابن ابی شیبة ١٧٤ من رد المکااتب اذا عجز، ج رابع، ص ٣٩٩،نمبر٢١٤٠٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مکاتب قسط ادا نہ کر سکے تو دو بارہ غلام بن جائے گا اور قرض ساقط ہو جائے گا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مکفول عنہ پر دین لازم نہ ہو تو اس کا کفیل بننا صحیح نہیں ہے۔
]١٤٥١[(٣٤)اگر کوئی آدمی مر جائے اور اس پر دین ہو اور کچھ نہیں چھوڑا ہو ،پس اس کی جانب سے ایک آدمی قرض خواہوں کے لئے کفیل بن جائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک کفالہ صحیح نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک صحیح ہے۔
وجہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک کفالت کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ۔ایک تو یہ کہ مکفول عنہ پر دین لازم ہو ۔اور دوسری بات یہ ہو کہ کفیل دین ادا کرنے کے بعد مکفول عنہ کے مال سے وصول بھی کر سکتا ہو۔اور اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو وہ کفیل بننا نہیں ہے بلکہ تبرع اور احسان کے طور پر اپنے اوپر قرض کا حوالہ کر لینا ہے۔اس کو کفالت نہیں کہیں گے۔ اس مسئلہ میں مکفول عنہ مر چکا ہے اس لئے اس پر دین ادا کرنا لازم نہیں رہا ۔کیونکہ مرے ہوئے پر کیا لازم رہے گا ؟ اور کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے کہ کفیل اس سے اپنا دیا ہوا قرض وصول کر سکے اس لئے یہ کفالت نہیں ہوگی ۔
نوٹ حدیث میں جو ابو قتادہ کفیل بنے ہیں وہ تبرع کے طور پر حوالہ ہے کفالہ نہیں ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے اس حدیث کو باب اذا احال دین
حاشیہ : (الف) میں نے حضرت عطاسے پوچھا کہ میں نے دو غلاموں کو مکاتب بنایا اور دونوں پر لکھا بھی یعنی کفیل بنایا۔حضرت عطاء نے فرمایا تمہارے غلام میں جائز نہیں ہے ۔حضرت جریح فرماتے ہیں کہ میں عطاء سے پوچھا کیوں جائز نہیں ہے ؟ کہا اس وجہ سے کہ دونوں میں سے ایک مفلس بن جائے تو پھر وہ غلام ہو جائے گا تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا (ب) حضرت علی سے منقول ہے کہ مکاتب پر دو قسطیں جمع ہو جائیں اور اگلے سال میں داخل ہو جائیں اور قسط ادا نہ کر سکے توواپس غلامیت میں لوٹ جائے گا۔