ادی احدھما لم یرجع بہ علی شریکہ حتی یزید ما یؤدیہ علی النصف فیرجع بالزیادة]١٤٤٩[ (٣٢) واذا تکفل اثنان عن رجل بالف علی ان کل واحد منھما کفیل عن صاحبہ فما اداہ احدھما یرجع بنصفہ علی شریکہ قلیلا کان او کثیرا]١٤٥٠[ (٣٣)
کرنے والے پر قرض نہیں ہے اس لئے طے ہے کہ وہ کفالت کے طور پر شریک کی جانب سے ادا کیا ہے اس لئے اب اس سے وصول کریگا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اصل پہلے ادا ہوگا اور فرع اور مطالبہ بعد میں ادا ہوگا۔اپنا قرض پہلے ادا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض ادا نہ کرنے پر کافی وعید آئی ہے۔حدیث میں ہے۔عن محمد بن جحش ... فقال والذی نفسی بیدہ لو ان رجلا قتل فی سبیل اللہ ثم احیی ثم قتل ثم احیی ثم قتل و علیہ دین ما دخل الجنة حتی یقضی عنہ دینہ (الف) (نسائی شریف، باب التغلیظ فی الدین ص ٢٠٢ نمبر ٤٦٨٨) اس حدیث کی بنا پر اپنا دین پہلے ادا ہوگا (٢) حضرت ابو قتادہ کی کفالت والی حدیث میں بھی گزرا کہ آپۖ نے دین کی وجہ سے نماز جنازہ نہیں پڑھائی جب تک وہ ادا نہ ہو گیا۔
]١٤٤٩[(٣٢)اگر دو آدمی کفیل بنے ایک آدمی کی جانب سے ایک ہزار کا اس طور پر کہ ان میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہوگاتو جو کچھ ان میں سے ایک ادا کرے گا اس کا آدھا شریک سے وصول کرے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
تشریح دو آدمی ایک آدمی کے ایک ہزار درہم کے کفیل بنے ۔پھر یہ دونوں کفیل آپس میں بھی ایک دوسرے کے کفیل بن گئے تو مسئلہ یہ ہے کہ ایک کفیل جتنا دا کرے گا اس کا آدھا اپنے شریک کفیل سے وصول کرے گا مثلا پانچ سو ادا کیا ہوتو ڈھائی سو اپنے شریک کفیل سے لے گا۔پھر دونوں ملکر اصیل سے وصول کریںگے۔
وجہ یہاں دونوں کفیلوں پر ذاتی قرض نہیں ہے بلکہ دونوں پر کفالت ہے اور فرع ہے اس لئے دونوں فرع ہونے میں برابر ہے۔ اور چونکہ دونوں ایک دوسرے کے کفیل اور ضامن ہیں اس لئے جو کچھ ادا کیا اس کا آدھا اپنی جانب سے ادا کیا اور آدھا بطور کفالت کے شریک کی جانب سے ادا کیا ۔اس لئے آدھا اس سے وصول کر سکتا ہے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شریک کے بجائے اصل مقروض سے وصول کرے۔کیونکہ اصل میں تو اسی کا قرض ادا کیا ہے۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ دونوں برابر درجے کے فروع ہوں تو آدھا شریک سے وصول کر سکتا ہے۔اس لئے کہ جو کچھ ادا کیا اس میں سے آدھا اپنے شریک کی جانب سے بطور کفالت ادا کیا۔
]١٤٥٠[(٣٣) نہیں جائز ہے کفالہ مال کتابت کا چاہے آزاد اس کا کفیل بنے چاہے غلام۔
تشریح مکاتب نے کتابت کے لئے مولی کا قرض اپنے سر لیا۔اس قرض کا کوئی کفیل بننا چاہے تو کفیل نہیں بن سکتا۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا کوئی آدمی اللہ کے راستے میں شہید ہو جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید ہوجائے پھر زندہ کیا جائے تو اس پر قرض ہو تو اس وقت تک جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا جب تک کہ قرض ادا نہ کردیا جائے۔