Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

318 - 457
الا بقبول المکفول لہ فی مجلس العقد]١٤٤٧[(٣٠) الا فی مسئلة واحدة  و ھی ان یقول المریض لوارثہ تکفل عنی بما علیَّ من الدین فتکفل بہ مع غیبة الغرماء جاز ]١٤٤٨[(٣١) واذا کان الدین علی اثنین وکل واحد منھما کفیل ضامن عن الآخر فما 

بھی کفیل بن جائے گا۔جیسے کہ فضولی کے نکاح کو مجلس کے علاوہ جہاں خبر ملے اور قبول کرلے تب بھی نکاح ہو جاتا ہے۔اسی طرح مجلس کفالت کے علاوہ میں مکفول لہ قبول کر لے تب بھی کفالت درست ہو جائے گی۔
]١٤٤٧[(٣٠)مگر ایک مسئلہ میں وہ یہ کہ بیمار اپنے وارث سے کہے کہ میری جانب سے کفیل ہو جاؤ اس چیز کاجو میرے اوپر دین ہے ،پس اس کا کفیل بن گیا قرضخواہوں کی عدم موجودگی میں تو جائز ہے۔  
تشریح  یہ ایک مسئلہ ایسا ہے کہ مکفول لہ کفالت کو قبول نہ کرے بلکہ مکفول لہ غائب ہو تب بھی کفالت درست ہے وہ یہ ہے کہ ایک آدمی مرض الموت میں مبتلا ہے اور اپنے وارث سے کہتا ہے کہ مجھ پر جتنا دین ہے اس کا تم کفیل بن جاؤ اور وہ مکفول لہ کی عدم موجودگی میں کفیل بن جائے تو اس صورت میں وارث کا کفیل بننا صحیح ہے۔  
وجہ  یہ اصل میں کفیل بننا نہیں ہے بلکہ حقیقت میں قرض خواہوں کو قرض ادا کرنے کے لئے وصیت ہے ۔اور کفیل حقیقت میں وصی ہے اس لئے اس صورت میںمکفول لہ کے قبول کئے بغیر بھی کفیل بننا درست ہے (٢) یہاں مجبوری بھی ہے کیونکہ موت کے وقت تمام قرض خواہ حاضر نہیں ہوتے ہیں ۔اب اگر کفیل یا وصی نہ بنایا جائے تو قرض خواہوں کا قرض ضائع ہو جائے گا۔اس لئے مکفول لہ کے قبول کئے بغیر کفیل بننا درست ہے۔  
لغت  الغرماء  :  قرض دینے والے،قرض خواہ۔
]١٤٤٨[(٣١)اگر قرض دوآدمیوں پر ہو اور دونوں میں سے ہر ایک کفیل اور ضامن ہو دوسرے کا تو جو کچھ ان میں سے ایک نے ادا کیا تو وہ شریک سے وصول نہیں کرے گا یہاں تک کہ زیادہ ہو جو ادا کیا آدھے سے ،پس وصول کرے گا زیادہ کو۔  
تشریح  دو آدمیوں پر قرض تھا ۔مثلا دو آدمیوں نے ایک غلام ایک ہزار میں خریدا تھا اور دونوں پر آدھی آدھی قیمت قرض تھی یعنی پانچ پانچ سو درہم تھے۔اور دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی تھے۔پس ایک نے اگر آدھا قرض یعنی پانچ سو ادا کیا ہے تو یہ آدھا خود اس کے حصے کا شمار کیا جائے گا ،شریک کے حصے کا شمار نہیں کیا جائے گا ۔اس لئے جب تک آدھا ادا کیا تو اس میں سے کچھ شریک سے وصول نہیں کرے گا۔ہاں آدھا سے زیادہ ادا کرے تو اپنے شریک سے وصول کرے گا۔  
وجہ  آدھا قرض اصل ہے اور خود اپنے اوپر ذمہ داری ہے۔اور کفالت فرع ہے اور مطالبہ ہے۔اور قاعدہ یہ ہے کہ اصل کا درجہ پہلے ہوتا ہے اور فرع کا درجہ بعد میں ہوتا ہے۔اس لئے آدھا جو ادا کیا وہ اصل قرض ہونے کی وجہ سے ادا کرنے والے کی جانب سے ادا ہوگا۔کفالت کے طور پر شریک کی جانب سے ادا نہیں ہوگا۔اس لئے اس میں سے شریک سے کچھ وصول نہیں کر پائے گا۔البتہ آدھا سے زیادہ جو کچھ ادا کیا وہ ادا 

Flag Counter