Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

317 - 457
]١٤٤٥[ (٢٨) وان کانت بغیر عینھا جازت الکفالة]١٤٤٦[(٢٩) ولا تصح الکفالة 

وجہ  کفالت کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر اس نے سواری نہیں دی تو میں اپنی سواری لادنے کے لئے دے دوں گا۔اور اس صورت میں سواری متعین ہے اس لئے اپنی سواری دے نہیں سکتا اس لئے اس کا کفیل بننا صحیح نہیں ہے۔  
اصول  یہ مسئلہ اسی اصول پر ہے کہ اپنی جانب سے مثل نہیں دے سکتا ہو تو کفیل بننا صحیح نہیں ہے۔  
لغت  دابة  :  چوپایہ،سواری۔  الحمل  :  لادنا۔
]١٤٤٥[(٢٨)اور اگر سواری غیر متعین ہو تو کفالہ جائز ہوگا۔  
وجہ  اس صورت میں اگر مکفول عنہ نے سواری لادنے کے لئے نہیں دی تو اپنی جانب سے سواری دے سکتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں سواری متعین نہیں ہے اس لئے کفیل بننا درست ہے ۔
 اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اپنی جانب سے اس کی مثل دے سکتا ہو تو کفیل بننا درست ہے۔کیونکہ کفیل اس کی مثل دے دیگا۔
]١٤٤٦[(٢٩)نہیں صحیح ہے کفالہ مگر مکفول لہ کے قبول کرنے سے مجلس عقد میں۔  
تشریح  جس مجلس میں کفیل بن رہا ہو اسی مجلس میں مکفول لہ نے قبول کیا ہو کہ ہاں میں فلاں کے کفیل بننے سے راضی ہوںتب کفالت صحیح ہوگی ۔تو گویا کہ دو شرطیں ہوئیں۔ایک مکفول لہ کا قبول کرنا اور دوسری شرط یہ ہے کہ مجلس کفالت میں قبول کرے اس سے باہر قبول کرے تو کفالت صحیح نہیں ہوگی ۔
 وجہ  آدمی آدمی میں فرق ہوتا ہے ۔کوئی شریف ہوتا ہے اور کوئی شریر ہوتا ہے۔اب تک مکفول لہ کا واسطہ براہ راست مقروض سے تھا۔کفالت کے بعد اس کا واسطہ کفیل سے بھی ہوگا اور ممکن ہے کہ وہ شریر ہو جس کی بنیاد پر وہ کفیل سے واسطہ نہ رکھنا چاہتا ہو۔اس لئے کفالت کی بنیاد پر کفیل سے واسطہ قائم کرنے کے لئے اس کی رضامندی اور قبول کی ضرورت ہوگی۔اس لئے مکفول لہ کا قبول کرنا ضروری ہے۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مکفول لہ کا مطالبہ اور واسطہ نئے آدمی سے ہوگا اس لئے اس کی رضامندی ضروری ہے۔
اور مجلس میں قبول کی ضرورت اس لئے ہے کہ کفیل ایجاب کرے گا تو مجلس میں قبول کرے ورنہ اس کا ایجاب ساقط ہو جائے گا۔کیونکہ عقد کفالت کفیل کے ایجاب اور مکفول لہ کے قبول سے منعقد ہوتا ہے۔  
فائدہ  امام ابو حنیفہ کی دوسری روایت یہ ہے کہ کفیل بننے کے لئے مکفول لہ کے قبول کی ضرورت نہیں ہے۔بغیر اس کے قبول کئے ہوئے بھی کفیل بن جائے گا۔  
وجہ  کفیل اپنی جانب سے رقم دینے کے لئے کہہ رہا ہے اور مکفول لہ کو فائدہ ہے کہ پہلے ایک سے مطالبہ کر سکتا تھا اب دو سے مطالبہ کرے گا۔اور دونوں میں سے کسی ایک سے وصول کرے گا۔اس لئے مکفول لہ کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے (٢) یہ توثق اور اعتماد کے لئے ہے کہ کفالت کی وجہ سے اس کا مال ضائع نہیں ہوگا۔اس لئے بھی مکفول لہ کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔فتوی اسی پر ہے۔  
فائدہ  امام ابو یوسف کے نزدیک مکفول لہ کا مجلس کفالت میں قبول کرنا ضروری نہیں بلکہ مجلس سے باہر جہاں اس کو خبر ملے اور قبول کر لے تب 


Flag Counter