Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

31 - 457
]٨٥٧ (١٠) فاذا مات من لہ الخیار بطل خیارہ ولم ینتقل الی ورثتہ]٨٥٨[(١١) ومن 

کرنے کی اطلاع دیدی جائے۔
]٨٥٧[(١٠)پس اگر جس کو خیار شرط تھا وہ مر گیا تو اس کا اختیار باطل ہو جائے گا ۔اور یہ اس کے ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔  
تشریح  بائع یا مشتری جس نے خیار شرط لیا تھا وہ مر گیا تو اب یہ اختیار اس کے ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ اور وارث کو اس بیع کا خیار شرط نہیں ہوگا۔بلکہ چونکہ پہلے ایجاب اور قبول ہو چکے ہیںاس لئے بیع لازم ہو جائے گی۔  
وجہ  یہ اختیار ،ارادے اور چاہت کا نام ہے کہ بیع جائز قرار دیںیا نہ دیں۔ ورنہ ایجاب اور قبول پہلے ہو چکے ہیں۔ اور ارادے معنوی شی ہیں وہ منتقل نہیں ہوتے اس لئے اختیار ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا (٢) حدیث میں اشارہ ہے  عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ قال المتبایعان کل واحد منھما بالخیار علی صاحبہ مالم یتفرقا الا بیع الخیار(الف) ( بخاری شریف، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا ص ٢٨٣ نمبر ٢١١١ ) اس حدیث میں صرف المتبایعان یعنی بائع اور مشتری کو اختیار دیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی اور کو یہ اختیار نہیں ہوگا۔  
فائدہ   امام شافعی  فرماتے ہیں کہ جسطرح خیار عیب اور خیار تعین ورثہ کی طرف منتقل ہوتا ہے اسی طرح خیار شرط بھی ورثہ کی طرف منتقل ہوگا۔اور اس کو بھی بیع توڑنے اور جائز قرار دینے کا حق ہوگا۔
]٨٥٨[(١١)کسی نے غلام بیچا یہ کہہ کر کہ یہ روٹی پکانے والا  یاکاتب ہے پس اس کو اس کے خلاف پایا تو مشتری کو اس کا اختیار ہے کہ اگر چاہے تو پورا ثمن دے کر لے اور اگر چاہے تو اس کو چھوڑ دے۔  
تشریح  غلام بیچا یہ کہہ کر کہ یہ روٹی پکانے والا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ صفت اس غلام میں نہیں ہے تو اس صفت کے نہ ہونے کی وجہ سے مشتری کو بیع جائز قرار دینے اور بیع کے توڑنے کا اختیار ہوگا۔کیونکہ وہ صفت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی رغبت کم ہو گئی اور بائع نے خلاف وعدہ کیا اس لئے اس کو توڑنے کا حق ہوگا۔اور اگر غلام لینا چاہے تو جو قیمت آپس میں طے ہوئی تھی وہی قیمت دے کر لینا ہوگا ۔
 وجہ  روٹی پکانا ،کاتب ہونا یہ صفت ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ صفت کے مقابلے میں مستقل قیمت نہیں ہوتی اس لئے اس صفت کی کمی کی وجہ سے قیمت میں کمی نہیں ہوگی۔  
نوٹ  ہاں ! بائع قیمت کم کرنے پر راضی ہو جائے توگویا کہ الگ صفقہ کے ماتحت کم ہوئی جس کی گنجائش ہے۔البتہ قانونی طور پر پہلی ہی قیمت میں لینا ہوگا۔اس کا ثبوت حدیث سے ملتا ہے  عن عبد اللہ بن عمر ان رجلا ذکر للنبی ۖ انہ یخدع فی البیوع فقال اذا بایعت فقل لا خلابة (ب) (بخاری شریف، باب مایکرہ من الخداع فی البیع ص ٢٨٤ نمبر ٢١١٧ترمذی شریف ، باب ما جاء فیمن یخدع فی 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا بائع اور مشتری دونوں کو اپنے صاحب پر اختیار ہے جب تک کہ جدا نہ ہو جائے مگر خیار شرط کے بیع میں(ب) آپۖ کے سامنے تذکرہ آیا کہ ایک آدمی بیع میں دھوکہ کھاجاتا ہے تو آپۖ نے فرمایا کہ جب آپ بیع کریں تو کہہ دیا کریں کہ دھوکہ نہیں  (نوٹ) دوسری حدیث میں آپ کو تین دن کا اختیار لینے کو فرمایا تھا) 

Flag Counter