]٨٥٥[ (٨) ومن شرط لہ الخیار فلہ ان یسفخ فی مدة الخیار ولہ ان یجیزہ]٨٥٦[ (٩) فان اجازہ بغیر حضرة صاحبہ جاز وان فسخ لم یجز الا ان یکون الآخر حاضرا۔
وجہ مسئلہ نمبر ٤ میں قاضی شریح کا جملہ گزرا فقال شریح لعمر اخذتہ صحیحا سلیما وانت لہ ضامن حتی تردہ صحیحا سلیما (الف) ( سنن للبیھقی ، باب الماخوذ علی طریق السوم و علی بیع شرط فیہ خیار ج خامس ص ٤٥٠، نمبر١٠٤٦٣ مصنف عبدالرزاق نمبر ١٤٩٧٩) اس سے معلوم ہوا کہ مشتری کے ہاتھ میں مبیع عیب دار ہو جائے تو اس کو اس کی قیمت دینی ہوگی اور مبیع مشتری کی ہوگی اور بیع تام ہو جائے گی۔
]٨٥٥[(٨)جس نے خیار شرط لیا اس کے لئے جائز ہے کہ مدت خیار میں بیع فسخ کر دے اور اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ اس کو جائز کر دے۔
وجہ چونکہ اس نے بیع جائز قرار دینے اور بیع کے توڑنے کا اختیار لیا ہے اس لئے اس کو دونوں اختیار ہیں ۔چاہے تو تین دن کے اندر بیع توڑ دے،چاہے تو جائز قرار دے۔
]٨٥٦[(٩) پس اگر سامنے والے کی غیر حاضری میں بیع جائز قرار دی تو جائز ہے،اور اگر بیع فسخ کی تو جائز نہیں ہے مگر یہ کہ دوسرا حاضر ہو تشریح مثلا بائع نے خیار شرط لیا تو مشتری سامنے نہ بھی ہو یا اس کو علم نہ بھی ہو تب بھی بیع جائز قرار دینا چاہے تو جائز قرا دے سکتا ہے۔
وجہ کیونکہ بیع جائز قرار دینے میں مشتری کا نقصان نہیں ہے وہ تو چاہ ہی رہا ہے کہ بیع جائز ہو جائے تب ہی تو اس نے خیار شرط نہیں لیا۔اس لئے مشتری کو علم نہ بھی ہوا ہو تب بھی بیع جائز قرار دے سکتا ہے۔اور اگر بائع بیع فسخ کرنا چاہتا ہو تو جب تک مشتری کو اس کی خبر نہ دے فسخ کرناجائز نہیں ہے ۔
وجہ کیونکہ مشتری کو فسخ کرنے سے نقصان ہوگا۔وہ سمجھ رہاتھا کہ بیع جائز کر دیگا لیکن اس نے فسخ کر دیا۔اب اس نے دوسری مبیع تلاش نہیں کی اور انتظار میں بیٹھا رہا ۔اس لئے اگر فسخ کرنا ہو تو دوسرے فریق کو اس کی اطلاع دینا ضروری ہے۔تاکہ اس کو نقصان نہ ہو (٢) حدیث میں اس کی تصریح ہے عن عائشة عن النبی ۖ قال لا ضرر ولا ضرار (ب) (دار قطنی ، کتاب فی الاقضیة والاحکام ج رابع ص ١٤٦ نمبر ٣٠٦٠٤٤٩٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کو نقصان دینے سے بچنا چاہئے۔
فائدہ امام ابو یوسف اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ دوسرے فریق کو اطلاع دیئے بغیر بھی فسخ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
وجہ دوسرے فریق نے اختیار لینے والے کو بیع توڑنے کا بھی اختیار دیا ہے اس لئے وہ جس طرح غائبانہ میں بیع جائز قرار دے سکتا ہے اسی طرح توڑ بھی سکتا ہے۔
لغت الا ان یکون الحاضر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرا فریق حاضر ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے وہ حاضر نہ ہو لیکن اس کو بیع فسخ
حاشیہ : (الف) حضرت قاضی شریح نے حضرت عمر سے فرمایا کہ آپ نے گھوڑے کو صحیح سالم لیا اس لئے آپ ضامن ہیں۔یہاں تک کہ اس کو صحیح سالم واپس کریں (ب) آپۖ نے فرمایا نہ نقصان اٹھانا چاہئے اور نہ نقصان دینا چاہئے