]١٤١٥[(٤٦) و قال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی یجوز اقرارہ علیہ عند غیر القاضی ]١٤١٦[ (٤٧) ومن ادعی انہ وکیل الغائب فی قبض دینہ فصدقہ الغریم امر بتسلیم الدین الیہ فان حضر الغائب فصدقہ جاز والا دفع الیہ الغریم الدین ثانیا ویرجع بہ علی الوکیل ان کان باقیا فی یدہ ]١٤١٧[(٤٨) وان قال انی وکیل بقبض الودیعة فصدقہ
]١٤١٥[(٤٦)امام ابو یوسف نے فرمایاجائز ہے وکیل کا اقرار کرنا موکل پر قاضی کے علاوہ کے پاس بھی۔
تشریح وکیل نے قاضی کی مجلس کے علاوہ میں موکل پر اقرار کر لیا تب بھی اقرار ہو جائے گا امام ابو یوسف کے نزدیک۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ وکیل موکل کے درجے میں ہے اور موکل قاضی کی مجلس کے علاوہ میں کسی چیز کااقرار کرے تو اقرار ہو جاتا ہے تو وکیل بھی قاضی کی مجلس کے علاوہ میں اقرار کرے تو اقرار ہو جائے گا۔
]١٤١٦[(٤٧)کسی نے دعوی کیا کہ وہ غائب کا وکیل ہے اس کے قرض کے قبضہ کرنے میں ،پس مقروض نے اس کی تصدیق کردی تو مقروض کو حکم دیا جائے گا قرض سپرد کرنے کا،پس اگر غائب حاضر ہو گیا اور اس نے وکیل کی تصدیق کردی تو جائز ہو گیا ورنہ تو مقروض موکل کی طرف دین دوبارہ ادا کرے گا اور دین لے گاوکیل سے اگر اس کے ہاتھ میں باقی ہو۔
تشریح مثلا زید نے دعوی کیا کہ وہ عمر کا وکیل ہے اس بات کا کہ اس نے کہا ہے کہ خالد سے قرض وصول کر لو۔اور خالد مقروض نے تصدیق کر دی کہ واقعی تم عمر کے وکیل ہوتو خالد نے چونکہ تصدیق کردی کہ زید کا عمر وکیل ہے اور مال خالد کا ذاتی ہے ،وہ اپنے مال میں تصرف کر سکتا ہے اس لئے خالد کو حکم دیا جائے گا کہ عمر کا قرض زید کے حوالے کردے۔پھر عمر باہر سے واپس آیا اور تصدیق کر دی کہ زید میرا وکیل ہے تو بات بن گئی اور خالد کا ادا کیا ہوا قرض عمر کو ادا ہو گیا۔اور اگر عمر موکل نے کہا کہ زید میرا وکیل نہیں ہے تو خالد کو کہا جائے گا کہ تم دو بارہ عمر کا قرض عمر کو ادا کرو ۔
وجہ کیونکہ عمر نے خالد کو با ضابطہ نہیں کہا تھا کہ زید میرے دین پر قبضہ کرنے کا وکیل ہے۔بلکہ یہ تو زید اور خالد کی ملی بھگت تھی کہ خالد نے تصدیق کردی کہ تم عمر کے وکیل ہو۔اس لئے خالد کو دو بارہ قرض عمر کی طرف ادا کرنا ہوگا۔ اور زید کے ہاتھ میں دی ہوئی رقم موجود ہو تو اس سے خالد واپس لے گا اور وہ رقم ہلاک ہو گئی تو اس سے قانونی طور پر واپس نہیں لے سکے گا۔
وجہ وہ مال زید کے ہاتھ میں امانت کا تھا اس لئے اس کے ہاتھ میں ہلاک ہو جائے تو واپس نہیں لے سکے گا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اپنے مال میں کسی کو وکیل تسلیم کر سکتا ہے اور اس کو اپنا مال حوالے کر سکتا ہے۔
]١٤١٧[(٤٨)اور اگر کہا کہ میں امانت کے قبضہ کرنے کا وکیل ہوں اور امانت رکھنے والے نے اس کی تصدیق کردی تو اس کو حوالہ کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا ۔
تشریح مثلا زید خالد سے کہتا ہے کہ عمر کی جو امانت ہے اس پر قبضہ کرنے کا میں عمر کی جانب سے وکیل ہوں اور عمر غائب تھا اور خالد نے تصدیق