عند ابی حنیفة و محمد رحمھما اللہ تعالی الا انہ یخرج من الخصومة۔
میں اس لئے قاضی کی مجلس ہی میں اقرار کا اعتبار ہوگاتاکہ خصومت ہو،اس سے باہر اقرار کرنے کا اعتبار نہیں ہے ۔یہ مطلب امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ہے۔
وجہ (١) امام اعظم کی نظر پہلے کی طرح لفظ مطلق کی طرف گئی ہے (٢) ایک حدیث سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ وکیل موکل پر اقرار کر سکتا ہے اور امام کے سامنے اقرار کا اعتبار ہے۔لمبی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ قید ہو کر آئے،پھر قبیلہ ہوازن کے لوگ تائب ہو کر آئے اور اپنے قیدی مانگنے لگے ۔آپۖ نے مسلمانوں سے قیدی چھوڑنے کی ترغیب دی تو مسلمان اس پر راضی ہو گئے،آپۖ نے فرمایا اتنی رضامندی سے دلی رضامندی کا پتہ نہیں چلتا۔آپ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے سرداروں کے پاس اس کا اقرار کریں اور سردار آپ کی وکالت میں آکر میرے سامنے اقرار کرے کہ آپ لوگ قیدی چھوڑنے پر راضی ہیں تب صحیح ہوگا۔بعد میں سارے سردار آئے اور حضورۖ کے سامنے اپنی اپنی قوم کی وکالت کرتے ہوئے اقرار کیا کہ وہ لوگ قیدی چھوڑنے پر دل سے راضی ہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ وکیل موکل کے اوپر اقرار کر سکتے ہیں۔اور قاضی اور امیر کے سامنے اقرار کرے تب اس کا اعتبار معتبر ہوگا۔ حدیث کا ٹکڑا یوں ہے۔زعم عروة ان مروان بن الحکم والمسور بن مخرمة اخبراہ ان رسول اللہ قام حین جاء ہ وفد ھوازن مسلمین ... فقال رسول اللہ ۖ انا لاندری من اذن منکم فی ذلک ممن لم یأذن فارجعوا حتی یرفعو الینا عرفاؤکم امرکم فرجع الناس فکلمھم عرفاؤھم ثم رجعوا الی رسول اللہ ۖ فاخبروہ انھم قد طیبوا واذنوا (الف) (بخاری شریف،باب اذا وھب شیئا لوکیل او شفیع قوم جاز ص ٣٠٩ نمبر ٢٣٠٧) اس حدیث میں سرداروں نے قوم کی وکالت میں حضورۖ کے سامنے اقرار کیا کہ وہ قیدی چھوڑنا چاہتے ہیں اور حضورۖ قاضی بھی تھے۔اس لئے قاضی کے سامنے اقرار کیا جا سکتا ہے (٣) جانتے ہوئے کہ میرا موکل مجرم ہے پھر بھی جرم کا یا رقم کا اقرار نہ کرے توظلم پر اعانت ہوگی جو حدیث میں ممنوع ہے۔عن ابن عمر عن النبی ۖ بمعناہ قال ومن اعان علی خصومة بظلم فقد باء بغضب من اللہ عز و جل (ب)(ابو داؤد شریف ، باب فی الرجل یعین علی خصومة من غیر ان یعلم امرھا ج ثانی ص ١٥٠ نمبر ٣٥٩٨) اس حدیث کی بنا پر موکل پر اقرار کرنا بھی جائز ہے۔
البتہ اگر غیر قاضی کے سامنے اقرار کیا اور گواہ سے اس کا ثبوت مل گیا کہ وکیل نے ایسا کیا ہے تو وہ وکالت سے نکل جائے گا۔کیونکہ اس نے خلاف قاعدہ کیا ہے۔اور اب موکل کے دین پر اس کو قبضہ نہیں دیا جائے گا یہی 'الا انہ یخرج من الخصومة' کا مطلب ہے۔
اصول مطلق لفظ دونوں کو شامل ہے،ہاں کو بھی اور انکار کو بھی۔اسی قاعدہ پر یہ مسئلہ جاری ہے۔
حاشیہ : (الف) جب ہوازن کا وفد مسلمان بن کر آیا تو آ پ کھڑے ہو گئے ... آپۖ نے فرمایا مجھے معلوم نہین تم میں سے کس نے اجازت دیاور کس نے اجازت نہیں دی۔واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارا معاملہ تمہارے سردار لے کر آئے ۔پس لوگ لوٹے اور ان کے سرداروں نے ان سے بات کی۔پھر حضورۖ کے پاس آئے اور خبر دی کہ وہ خوشی سے اجازت دیتے ہیں(ب) آپۖ نے فرمایا کسی نے ظالم کے جھگڑے میں مدد کی تو اللہ کے غصے کا مستحق ہو گیا۔