یوسف و محمد رحمھم اللہ تعالی]١٤١٣[(٤٤) والوکیل بقبض الدین وکیل بالخصومة فیہ عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی]١٤١٤[ (٤٥) واذا اقر الوکیل بالخصومة علی موکلہ عند القاضی جاز اقرارہ ولا یجوز اقرارہ علیہ عند غیر القاضی
قبضہ کرنے کا وکیل ہوگا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ کسی چیز کا وکیل بنا ئیں تو اس کے پورے لوازم کے ساتھ وکیل بنے گا۔
فائدہ امام زفر فرماتے ہیں کہ خصومت کا وکیل امانت دار نہیں ہوتا اس لئے اگر اس کو دین پر قبضہ کرنے کی گنجائش دیں تو پھر وہ دین موکل کو واپس ہی نہیں دے گا۔اس لئے خصومت کا وکیل قبضہ کا وکیل نہیں ہوگا۔اور خیانت عامہ کی وجہ سے آج کل اسی پر فتوی ہے۔
]١٤١٣[(٤٤) قرض پر قبضہ کا وکیل مقدمے کا بھی وکیل ہوگاامام ابو حنیفہ کے نزدیک۔
تشریح وجہ یہ ہے کہ قرض پرقبضہ کرنے کے لئے بعض مرتبہ مقدمہ بھی کرنا پڑتا ہے۔اور پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ کسی کام کا وکیل بنائیں تو اس کے پورے لوازمات کے ساتھ وکیل بنانا پڑتا ہے۔اس لئے قرض کا وکیل مقدمہ اور خصومت کا بھی وکیل ہوگا ۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ قرض پر قبضہ کا وکیل مقدمے کا وکیل نہیں ہوگا۔
وجہ دین پر قبضہ کرنا اور چیز ہے جو امانت دار کا کام ہے اور مقدمہ کرنا اور چیز ہے جو چالاک اور ماہرین قانون کا کام ہے۔اس لئے دونوں دو الگ الگ کام ہیں۔اور کوئی ضروری نہیں ہے کہ جو امانت دار ہو وہ قانون کا ماہر بھی ہو۔اور اس پر قانونی اعتماد بھی کیا جائے۔اس لئے قبضہ کا وکیل خصومت اور مقدمہ کا وکیل نہیں ہوگا۔
اصول یہ اس اصول پر گئے ہیں کہ قبضہ اور خصومت دو الگ الگ کام ہیں۔ایک پر اعتماد کرنے سے دوسرے کام میں اعتماد کرنا لازم نہیں آتا۔
]١٤١٤[(٤٥)اگر مقدمے کا وکیل اپنے موکل پر اقرار کرے قاضی کے پاس تو اس کا اقرار جائز ہے اور وکیل کا اقرار قاضی کے علاوہ کے پاس جائز نہیں ہے امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک مگر یہ کہ وہ مقدمہ سے نکل جائے گا۔
تشریح ایک آدمی کو وکیل بنایا کہ میری جانب سے قاضی کے سامنے خصومت اور مقدمے کے وکیل بنیں تو اس کے دو مطلب ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ اس بات کے وکیل ہیںکہ آپ موکل کے جرم کا اقرار نہ کریں بلکہ ہمیشہ انکار ہی کرتے چلے جائیں یا زیادہ سے زیادہ خاموش رہیں۔اسی لئے آپ کو خصومت کا وکیل مقرر کیا ہے۔اگر اقرار کرنا ہوتا تو میں خود اقرار کر لیتا آپ کو وکیل خصومت بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ یہی مطلب امام زفر اور ائمہ ثلاثلہ لیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ خصومت کا مطلب ہی جھگڑا کرنا اور انکار کرناہے، اور اقرار کرنا اس کی ضد ہے۔اس لئے وکیل ضد کا مالک کیسے بنے گا؟ اس لئے وکیل یا انکار کرے یا دیکھے کہ میرا موکل واقعی مجرم ہے تو خاموش رہے۔البتہ اقرار نہ کرے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ مطلق جواب کا وکیل ہے جس میں اقرار بھی شامل ہے اور انکار بھی شامل ہے اور خاموش بھی رہ سکتا ہے۔وہ تینوں طریقوں کا مالک ہے۔کیونکہ مطلق خصومت میں تینوں طریقے شامل ہیں۔البتہ چونکہ خصومت کا وکیل ہے اور خصو مت ہوتی ہے قاضی کی مجلس