Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

299 - 457
رطلا بدرھم من لحم یباع مثلہ عشرة ارطال بدرھم لزم الموکل منہ عشرة ارطال بنصف 
درہم عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی وقالا رحمھما اللہ یلزمہ العشرون]١٤١٠[ (٤١) وان وکلہ بشراء شیء بعینہ فلیس لہ ان یشتریہ لنفسہ]١٤١١[ (٤٢) وان وکلہ بشراء عبد بغیر عینہ فاشتری عبدا فھو للوکیل الا ان یقول نویت الشراء للموکل او یشتریہ بمال الموکل]١٤١٢[ (٤٣) والوکیل بالخصومة وکیل بالقبض عند ابی حنیفة وابی 

دینار میں ایک بکری خریدنے کے لئے کہا تو راوی نے دو بکریاں خریدی لیکن راوی کی نظر اس بات کی طرف گئی کہ ضرورت ایک بکری کی ہے اس لئے ایک بکری بیچ کر ایک دینار اور ایک بکری لے کر واپس آئے۔جس سے پتہ چلا کہ ضرورت کی طرف نظر جانی چاہئے۔
اور صاحبین کی نظر رقم خرچ کرنے کی طرف گئی ہے کہ ایک درہم خرچ کرنے کے لئے دیا ہے اس سے چاہے دس رطل گوشت آ جائے چاہے بیس رطل گوشت آ جائے۔موکل نے سمجھا کہ ایک درہم میں دس رطل ہی گوشت آئے گا اس لئے اس نے دس رطل لانے کے لئے کہا۔اس لئے اگر بیس رطل لے آیا تو اس کے لئے خیر کا کام کیا۔اس لئے ایک درہم میں بیس رطل گوشت موکل پر لازم ہوجائے گا۔  
اصول  ان کااصول ہے کہ پوری رقم خرچ کرنا ہے چاہے جتنا گوشت آجائے۔
 لغت  رطل  :  ایک خاص قسم کا وزن جو آدھا کیلو کا ہوتا ہے جو 442.25 گرام کا ہوتا ہے۔
]١٤١٠[(٤١) اگر کسی متعین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کو اپنے لئے خریدے۔  
وجہ  موکل نے اس پر اعتماد کیا ہے کہ میرے لئے خریدے گا اور وکیل نے اپنے لئے خرید لیا تو اس میں ایک قسم کا دھوکہ دینا ہوا۔اس لئے وکیل متعین چیز کو اپنے لئے نہیں خرید سکتا۔
]١٤١١[(٤٢) اور اگر کسی غیر متعین غلام کو خریدنے کا وکیل بنایا،پس اس نے غلام خریدا تو وکیل کے لئے ہوگا،مگر یہ کہ کہے میں نے موکل کے لئے خریدنے کی نیت کی تھی یا اس کو موکل کے مال سے خریدے۔  
تشریح  غیر متعین غلام خریدنے کا وکیل بنایا تھا۔ایسی صورت میں ایک غلام خریدا تو جب کوئی ایسی علامت نہ ہو کہ یہ موکل کے لئے خریدا ہے اس وقت تک وہ غلام وکیل کے لئے ہی شمار کیا جائے گا۔کیونکہ عموما آدمی اپنے لئے ہی خریدتا ہے۔موکل کے لئے خریدنے کی علامت میں سے یہ ہے کہ خریدتے وقت موکل کی نیت کرے یا کم از کم موکل کے مال سے غلام خریدے تو وہ غلام موکل کے لئے ہوگا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ موکل کے لئے خریدنے کی علامت ہو تو موکل کے لئے ہوگا ورنہ اپنی ذات کے لئے ہوگا۔
]١٤١٢[(٤٣)مقدمے کا وکیل قبضہ کا بھی وکیل ہے امام ابو حنیفہ ،امام ابو یوسف اور امام محمدکے نزدیک۔   
تشریح  کسی کو مقدمہ اور خصومت کا وکیل بنایا تو فیصلے کے بعد دین اور چیز پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔  
وجہ  کسی چیزکا وکیل بنایا تو اس کے پورے لوازمات کے ساتھ وکیل ہوگا۔اور خصومت کے لوازمات میں سے قبضہ کرنا بھی ہے۔اس لئے 

Flag Counter