]٨٥٢[(٥) وخیار المشتری لا یمنع خروج المبیع من ملک البائع الا ان المشتری لا یملکہ عند ابی حنیفة وقال ابو یوسف و محمد یملکہ]٨٥٣[ (٦) فان ھلک بیدہ ھلک بالثمن]٨٥٤[ (٧) وکذلک ان دخلہ عیب۔
کہ مشتری کو قیمت دینی ہوگی ،کیونکہ اس کے کرتوت سے مبیع ہلاک ہوئی ہے۔
]٨٥٢[(٥) مشتری کا خیار شرط نہیں روکتا ہے مبیع کے نکلنے سے بائع کی ملکیت سے،مگر یہ کہ مشتری اس کا مالک نہیں ہوگا امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔اور صاحبین فرماتے ہیں کہ مبیع کا مالک ہوگا۔
تشریح خیار شرط مشتری نے لیا ہے،بائع نے نہیں لیا ہے ۔اس لئے بائع نے تو اپنی جانب سے بیع طے کردی ہے اس لئے بائع کی ملکیت سے مبیع نکل جائے گی۔لیکن مشتری نے خیار شرط لیا ہے تو گویا کہ مشتری نے ابھی مکمل بیع طے نہیں کی اس لئے اس کی ملکیت میں مبیع داخل نہیں ہوگی۔نیز اگر اس کی ملکیت میں داخل ہو جائے تو مشتری کا نقصان ہے۔مثلا اگر اپنے بھائی کو خریدا تھا اور خیار شرط لیا اس کے باوجود بھائی اس کی ملکیت میں داخل ہو گیا تو چونکہ وہ ذی رحم محرم ہے اس لئے بھائی آزاد ہو جائے گا۔اب مشتری کے نہ چاہتے ہوئے بھی بھائی آزاد ہو گیا۔اس لئے امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ مشتری کے خیار شرط کے وقت مبیع مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوگی ۔
لغت ثمن : وہ ہے جو بائع اور مشتری کے درمیان قیمت طے ہو۔ قیمت : جو قیمت بازار میں لگ سکتی ہو اس کو قیمت کہتے ہیں۔
صاحبین فرماتے ہیں کہ مشتری کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی۔
وجہ کیونکہ بائع کی ملکیت سے نکل گئی تو مملوک شی کسی نہ کسی کی ملکیت میں داخل ہونی چاہئے ورنہ وہ مملوک کیسے ہوگی۔اس لئے چاہے مشتری نے خیار لیا ہو پھر بھی اس کی ملکیت میں مبیع داخل ہو جائے گی۔
]٨٥٣[(٦) پس اگر مشتری کے ہاتھ میں ہلاک ہو گئی تو ثمن کے بدلے میں ہلاک ہوگی ۔
تشریح مشتری نے خیار شرط لیا اس لئے اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہوئی تھی لیکن جب مبیع ہلاک ہونے لگی تو ہلاک ہونے سے پہلے وہ مشتری کی ملکیت میں داخل ہو گئی اور بیع مکمل ہو گئی۔اور جب بیع مکمل ہو گئی تو مشتری پر ثمن لازم ہوگا۔ یعنی وہ قیمت جو بائع اور مشتری کے درمیان طے ہوئی تھی۔
اصول بیع مکمل ہو گئی ہو تو ثمن لازم ہوتا ہے۔
]٨٥٤[(٧) ایسے ہی اگر مبیع میں عیب پیدا ہوگیا۔
تشریح یعنی مشتری نے خیار لیا تھا اور مبیع پر بھی قبضہ کیا تھا ۔مبیع مشتری کے ہاتھ میں رہتے ہوئے عیب دار ہو گئی تو بیع تام ہوگئی ۔اس لئے مشتری کو ثمن دینا ہوگاجو آپس میں طے ہواتھا۔ کیونکہ مشتری کے ہاتھ میں رہتے ہوئے مبیع کے عیب دار ہونے سے بیع مکمل ہو جاتی ہے۔کیونکہ مبیع صحیح سالم لی تھی تو اب عیب دار کیسے واپس کرے گا ۔