]١٤٠٨[(٣٩) وان وکلہ بشراء عبد واشتری نصفہ فاشراء موقوف فان اشتری باقیہ لزم الموکل]١٤٠٩[ (٤٠) واذا وکلہ بشراء عشرة ارطال لحم بدرھم فاشتری عشرین
میں ہے کہ وہ معروف انداز سے کھا سکتا ہے اور پہن سکتا ہے۔لیکن یہ قاعدہ ہر جگہ جاری ہوگا کہ جہاں بھی مطلق ہوگا وہاں دیکھا جائے گا کہ معاشرے میں اس کا کیا مطلب ہے اور اسی پر فیصلہ ہوگا جس کو معروف کہتے ہیں۔
]١٤٠٨[(٣٩)اگر کسی غلام خریدنے کا وکیل بنایا اور اس کا آدھا خریدا تو خریدنا موقوف ہوگا،پس اگر باقی آدھا خریدا تو موکل کو لازم ہوگا۔ تشریح غلام خریدنے کا وکیل بنایا لیکن وکیل نے پورا غلام خریدنے کے بجائے آدھا غلام خریدا،پس اگر باقی آدھا بھی خرید لیا تو موکل کو یہ غلام لازم ہوگا۔اور باقی آدھا نہ خرید سکا تو یہ آدھا موکل کو لازم نہیں ہوگا۔بلکہ یہ آدھا خود وکیل کے لئے ہو جائے گا۔
وجہ یہاں قوی شبہ ہے کہ آدھا وکیل نے اپنے لئے خریدا تھا لیکن اس کو پسند نہ آیا تو موکل کے ماتھے پر ڈال دیا اور موکل کو شرکت کے ضرر میں پھسا دیا۔اس لئے یہ آدھا خریدنا موکل کو لازم نہیں ہوگا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گابشرطیکہ تہمت کا شبہ نہ ہو،جہاں تہمت کا شبہ ہو وہاں مطلق نہیں رہے گا بلکہ مقید ہو جائے گا۔
]١٤٠٩[(٤٠) اگر وکیل بنایا دس رطل گوشت خریدنے کا ایک درہم کے بدلے،پس خرید لیا بیس رطل ایک درہم کے بدلے ایسا گوشت جو بیچا جاتا ہو دس رطل ایک درہم کے بدلے تو موکل کو اس سے دس رطل لازم ہوگا آدھے درہم کے بدلے امام ابو حنیفہ کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا لازم ہوگا موکل کو بیس رطل ۔
تشریح ایک آدمی کو ایک درہم کے بدلے دس رطل گوشت خریدنے کا وکیل بنایا ۔اس نے ایساہی عمدہ گوشت جو ایک درہم میں دس رطل بکتا ہو ایک درہم میں بیس رطل خرید لایا تو یہ بیس رطل موکل کو لازم ہوگا یا آدھے درہم کے بدلے دس رطل لازم ہوگا ؟ اس بارے میں اختلاف ہے۔امام ابو حنیفہ کی نظر اس بات کی طرف گئی کہ موکل کو صرف دس رطل گوشت کی ضرورت ہے اگرچہ اس کا خیال یہ تھا کہ دس رطل ایک درہم میں ملے گا اس لئے ایک درہم دے دیا۔اب دس رطل آدھے درہم میں مل گیا تو آدھا درہم ہی لازم ہوگا اور دس رطل لینا لازم ہوگا اس سے زیادہ نہیں۔البتہ وہ اپنی خوشی سے لے لے تو اور بات ہے۔ورنہ آدھا گوشت یعنی دس رطل وکیل کو لینا پڑے گا اور آدھا درہم اپنی جیب سے دینا ہوگا۔
اصول امام اعظم کی نگاہ دس رطل گوشت کی طرف گئی ہے۔ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن عروة یعنی ابن الجعد البارقی قال اعطاہ النبی ۖ دینارا یشتری بہ اضحیة او شاة فاشتری شاتین فباع احداھما بدینار فاتاہ بشاة و دینار فدعا لہ بالبرکة فی بیعہ(الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی المضارب یخالف ج ثانی ص ١٢٤ نمبر ٣٣٨٤ ترمذی شریف نمبر ١٢٥٧) اس حدیث میں ایک
حاشیہ : (الف) جعد بارقی فرماتے ہیں کہ اس کو حضورۖ نے ایک دینار دیا تاکہ قربانی یا بکری خرید کر لائے،پس دو بکریاں خرید کر لائے،پس ان میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچا پھر ایک بکری اور ایک دینار لے کر آئے تو آپۖ نے اس کی بیع میں برکت کی دعا کی۔