Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

28 - 457
محمد یجوز اذا سمی مدة معلومة]٨٥٠[ (٣) و خیار البائع یمنع خروج المبیع من ملکہ ]٨٥١[(٤) فان قبضہ المشتری فھلک بیدہ فی مدة الخیار ضمنہ بالقیمة 

کو کوئی اشکال نہیں ہونا چاہئے بشرطیکہ مدت معلوم ہوکہ کتنے دنوں کا اختیار لینا چاہتے ہیں،مجہول نہ ہو۔ ان کی دلیل اوپر کی حدیث ہے جس میں تین دن کی قید نہیں ہے مطلقا اختیار دیا گیا ہے۔
]٨٥٠[(٣)بائع کا اختیار روکتا ہے مبیع کے نکلنے کو اس کی ملکیت سے۔  
تشریح  بائع نے خیار شرط لیا تو چاہے مبیع مشتری کے ہاتھ میں جا چکی ہو لیکن ابھی بھی وہ بائع کی ملکیت ہی میں ہے۔ اس کی ملکیت سے نکلی نہیں ہے۔  
وجہ  بائع نے اختیار لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیع کرنے کے باوجود وہ ابھی اپنی ملکیت میں رکھنا چاہتا ہے۔ جب وہ بیع نافذ کرے گا تب اس کی ملکیت سے مبیع نکلے گی۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس دوران مبیع کو آزاد کرنا چاہے تو آزاد کر سکتا ہے،اور مشتری آزاد کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی ملکیت میں ابھی مبیع نہیں گئی ہے۔  
اصول  بائع کی پوری رضامندی کے بغیر مبیع اس کے ہاتھ سے نہیں نکلے گی۔حدیث میں اس کا اشارہ ہے  عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یفترقن عن بیع الا عن تراض (الف) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی خیار المتبایعین ص ٢٣٦ نمبر ١٢٤٨ ابو داؤد شریف ، باب خیار المتبایعین ص ١٣٣ نمبر ٣٤٥٨) اس حدیث میں ہے کہ رضامندی کے بغیر بائع اور مشتری جدا نہ ہوں۔اس لئے خیار شرط کی وجہ سے بائع کی ملکیت سے مبیع نہیں نکلے گی۔
]٨٥١[(٤)پس اگر مشتری نے مبیع پر قبضہ کیااور مدت خیار میں اس کے ہاتھ میں ہلاک ہوگئی تو مشتری قیمت کا ضامن ہوگا۔  
تشریح  بائع نے تین دن کا خیار شرط لیا تھا اور مشتری نے بائع کی اجازت سے مبیع پر قبضہ کر لیا اور بعد میں مشتری کے ہاتھ میں مبیع ہلاک ہو گئی تو جو ثمن بائع اور مشتری کے درمیان طے ہوا تھا وہ تو لازم نہیں ہوگا ۔لیکن بازار میں اس مبیع کی جو قیمت ہوگی وہ ادا کرنا ہوگا۔  
وجہ  بائع کا خیار تھا اس لئے بائع کی ملکیت سے وہ چیز نہیں نکلی اور بیع بھی نہیں ہوئی لیکن مشتری نے بھاؤ کے طور پر وہ چیز لی تھی اور ہلاک ہو گئی اس لئے بازار کی جو قیمت ہو سکتی ہے وہ قیمت مشتری پر لازم ہوگی (٢) اس کا ثبوت اثر میں ہے ۔حضرت عمر نے ایک آدمی سے گھوڑا خریدا اگر پسند آئے گا تو رکھ لوں گا۔پھر ایک آدمی کو اس پر سوار کیا جس کی وجہ سے گھوڑا عیب دار ہو گیا۔ حضرت عمر نے قاضی شریح کو فیصل مانا تو قاضی شریح  نے فرمایا کہ آپ نے صحیح سالم لیا تھا اس لئے یا تو صحیح سالم گھوڑا واپس کرو یا اس کی قیمت ادا کریں۔فقال شریح لعمر  اخذتہ صحیحا سلیما وانت لہ ضامن حتی تردہ صحیحا سلیما (ب) (سنن للبیھقی ، باب الماخوذعلی طریق السوم وعلی بیع شرط فیہ الخیار ج خامس ص ٤٥٠، نمبر١٠٤٦٣ مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل یشتری الشیء علی ان یجربہ فیھلک ج ثامن ص ٢٢٤ نمبر ١٤٩٧٩) اس اثر سے معلوم ہوا 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا بیع کر کے جدانہ ہوں مگر رضامندی کے بعد (ب) قاضی شریح نے حضرت عمر سے فرمایا آپ نے صحیح سالم گھوڑا لیا تھا اس لئے آپ اس کی قیمت کے ضامن ہیں یا یہ کہ اس کو صحیح سالم گھوڑا واپس کریں  (نوٹ)  اور صحیح سالم گھوڑا واپس کر نہیں سکتے تو اس کی قیمت ادا کریں۔

Flag Counter