شیء فلا بد من تسمیة جنسہ وصفتہ ومبلغ ثمنہ الا ان یوکلہ وکالة عامة فیقول ابتع لی مارأیت]١٣٨٤[ (١٥) واذا اشتری الوکیل وقبض المبیع ثم اطلع علی عیب فلہ ان یردہ
وجہ حدیث میں وکیل بناتے وقت جنس اور قیمت طے کی ہے۔ عن عروة یعنی ابن الجعد البارقی قال اعطاہ النبی ۖ دینارا یشتری بہ اضحیة او شاة فاشتری شاتین (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی المضارب یخالف ص ١٢٤ نمبر ٣٣٨٤ ترمذی شریف ، باب الشراء والبیع الموقوفین ص نمبر ١٢٥٨ ) اس حدیث میں بکری جو جنس ہے اور ایک دینار قیمت وکیل کے لئے متعین کی ہے۔ اور قیمت سے بکری کی صفت بھی معلوم ہو گئی کہ کس قسم کی بکری چاہئے۔ اس لئے جنس ، صفت اور قیمت متعین کرنا ضروری ہے۔ اور وکالت عامہ کی دلیل لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ عن جابر بن عبد اللہ قال کنت مع النبی ۖ فی سفر ... فلما قدمنا المدینة قال یا بلال اقضہ وزدہ فاعطاہ اربعة دنانیر وزادہ قیراطا (ب) (بخاری شریف، باب اذا وکل رجل رجلا ان یعطی شیئا ولم یبین کم یعطی فاعطی علی ما یتعارفہ الناس ص ٣٠٩ نمبر ٢٣٠٩) اس حدیث میں حضرت بلال کو یہ نہیں فرمایا کہ اتنا دو بلکہ وکیل عام بنا دیا کہ قرض ادا کرنے کے علاوہ جو آپۖ مناسب سمجھیں وہ زیادہ دیں تو حضرت بلال نے عرف عام کے اعتبار سے ایک قیراط مناسب سمجھا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وکیل عام بنا دینے سے وکیل کے مناسب سمجھنے پر ہوگا۔اور ایسا وکیل بنانا درست ہے (٢) اگر ایسی جنس بیان کی کہ اس میں کافی جہالت ہے تو وکالت درست نہیں ہوگی کیونکہ وکیل کس جنس کے متعلق کام کرے گا ؟ اور کیسے اس کو انجام دے گا ؟ البتہ تھوڑی بہت جہالت ہو تو چل جائے گا۔کیونکہ اس کے تعین میں حرج ہوگا اور حرج مدفوع ہے۔ اس لئے جہالت یسیرہ سے بھی وکیل بنے گا۔
]١٣٨٤[(١٥)اگر وکیل نے خریدا اور مبیع پر قبضہ کیا پھر عیب پر مطلع ہوا تو اس کے لئے جائز ہے کہ عیب کی وجہ سے واپس کردے جب تک مبیع اس کے قبضہ میں ہے،پس اگر مبیع کو موکل کو سپرد کر دیا تو اس کو نہیں لوٹائے گا مگر موکل کی اجازت سے۔
تشریح وکیل نے مبیع خریدا پھر اس پر قبضہ کیا،پھر معلوم ہوا کہ اس مبیع میں عیب ہے تو جب تک مبیع اس کے ہاتھ میں ہے اس وقت تک اس کو عیب کے ماتحت بائع کی طرف واپس کر سکتا ہے۔اور اگر مبیع کو موکل کے حوالے کردیا تو اب موکل کی اجازت کے بغیر مبیع کو عیب کے ماتحت واپس نہیں کر سکتا۔
وجہ کیونکہ جیسے ہی موکل کے حوالے کیا تو اس کی وکالت ختم ہو گئی۔ اس لئے وکالت ختم ہونے سے پہلے واپس کر سکتا تھا۔وکالت ختم ہونے کے بعد موکل کی اجازت کے بغیر واپس نہیں کر سکتا ہے۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ وکالت ختم ہونے سے پہلے اختیار استعمال کر سکتا ہے،وکالت ختم ہونے کے بعد اختیار استعمال نہیں کر سکتا لغت سلمہ : سپرد کر دیا، حوالہ کر دیا۔
حاشیہ : (الف)ابن جعد بارقی کو حضورۖ نے ایک دینار دیا تاکہ اس سے قربانی کا جانور یا بکری خریدے تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں (ب) حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضورۖ کے ساتھ ایک سفر میں تھا...جب ہم مدینہ آئے تو آپۖ نے فرمایااے بلال !ان کو قرض دو اور زیادہ بھی دو تو حضرت بلال نے حضرت جابر کو چار دینار دیئے اور ایک قیراط زیادہ دیا۔