]١٣٨١[(١٢) واذا طالب الموکل المشتری بالثمن فلہ ان یمنعہ ایاہ]١٣٨٢[ (١٣) فان دفعہ الیہ جاز ولم یکن للوکیل ان یطالبہ ثانیا]١٣٨٣[(١٤) ومن وکل رجلا بشراء
القرآن شیئ؟ قال معی سورة کذا وسورة کذا قال اذھب فقد انکحتک بما معک من القرآن (الف) ( بخاری شریف ، باب التزوج علی القرآن وبغیر صداق ص ٧٧٣ نمبر ٥١٤٩) اس حدیث کے اخیر ٹکڑے میں ہے کہ میں نے قرآن کی وجہ سے شادی کروائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ مہر وغیرہ دینے کی ذمہ داری خود تمہاری ہے میری نہیں ۔
لغت صلح عن دم عمد : جان کر قتل کیا ہو جس کی وجہ سے قاتل پر قصاص لازم تھا ،لیکن اس کے بدلے میں کچھ رقم پر صلح کرلی تو اس کو صلح عن دم عمد کہتے ہیں۔
]١٣٨١[(١٢) اگر موکل نے مشتری سے قیمت کا مطالبہ کیا تو مشتری کے لئے جائز ہے کہ موکل کو اس سے روک دے۔
تشریح قیمت مانگنے کا حق وکیل کو تھا موکل کو نہیں تھا اور نہ مشتری موکل کو جانتا ہے اس لئے اگر موکل مشتری سے چیز کی قیمت مانگے تو مشتری کو حق ہے کہ موکل کو نہ دے۔ اور یوں کہے کہ میں ّپ کے وکیل کو دوںگا ۔
وجہ عقد وکیل نے کیا ہے۔اور اسی کو قیمت مانگنے کا حق ہے موکل کو نہیں ۔
]١٣٨٢[(١٣) اور اگر مشتری نے موکل کو قیمت دیدی تو جائز ہے۔اور اب وکیل کے لئے درست نہیں ہے کہ اس سے دو بارہ مطالبہ کرے۔
تشریح مشتری کو وکیل کو قیمت دینی چاہئے لیکن اس نے موکل کو مبیع کی قیمت دیدی تب بھی جائز ہے۔ اور اب وکیل کو حق نہیں ہے کہ دوبارہ مشتری سے قیمت وصول کرے ۔
وجہ حقیقت میں یہ قیمت موکل کی ہی تھی اور اس کو پہنچ گئی تو چیز اپنے مقام تک پہنچ گئی اس لئے جائز ہوگیا۔اور جو کام ہونا تھا وہ ہو گیا اس لئے وکیل کو مشتری سے دو بارہ قیمت مانگنے کا حق نہیں ہوگا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ حق حقدار کو پہنچ گیا تو کوئی بات نہیں۔
]١٣٨٣[(١٤) کسی نے کسی آدمی کو کوئی چیز خریدنے کا وکیل بنایا تو ضروری ہے اس کی جنس اور اس کی صفت اور قیمت کی مقدار کا بتانا ،مگر یہ کہ عام وکیل بنائے اور کہے کہ جو مناسب سمجھیں میرے لئے خرید لیں ۔
تشریح وکیل بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس چیز کے خریدنے کا وکیل بنا رہا ہے یا جو کام کرنے کا وکیل بنا رہا ہے اس کی جنس متعین کردے۔ مثلا بکری خرید کر لاؤ۔ اس کی صفت متعین کرے ۔ مثلا عمدہ بکری خرید کر لاؤ۔ اور اس کی قیمت کی مقدار متعین کرے مثلا ایک دینار کی بکری خرید کر لاؤ۔تب وکالت بنانا درست ہوگا۔ ہاں ! وکیل کو وکالت عامہ دیدے اور یوں کہہ دے کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں خرید کر لائیں تو پھر وکیل بنانا درست ہوگا ۔
حاشیہ : (الف) حضرت سعد ساعدی فرماتے ہیں کہ قوم کے ساتھ میں حضور کی خدمت میں تھا کہ ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگی... آپۖ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ قرآن کی سورتیں ہیں ؟ فرمایا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ۔ آپۖ نے فرمایا جاؤ جو کچھ قرآن ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہارا نکاح کروا دیا۔