Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

288 - 457
بالعیب مادام المبیع فی یدہ فان سلمہ الی موکل لم یردہ الا باذنہ ]١٣٨٥[(١٦) ویجوز التوکیل بعقد الصرف والسلم]١٣٨٦[ (١٧)فان فارق الوکیل صاحبہ قبل القبض بطل العقدولا یعتبر مفارقة الموکل ]١٣٨٧[(١٨) واذا دفع الوکیل بالشراء الثمن من مالہ وقبض المبیع فلہ ان یرجع بہ علی الموکل]١٣٨٨[(١٩) فان ھلک المبیع فی یدہ قبل 

]١٣٨٥[(١٦)عقد صرف یا عقد سلم کا بھی وکیل بنانا جائز ہے۔  
تشریح  جس طرح عام تجارت میں وکیل بنانا جائز ہے اسی طرح بیع صرف اور بیع سلم میں بھی وکیل بنانا جائز ہے۔  
وجہ  اثر میں ہے کہ حضرت عمر  نے ابن عمر کو صرف میں وکیل بنایا تھا۔وقد وکل عمر ابن عمر فی الصرف (الف) (بخاری شریف ، باب الوکالة فی الصرف والمیزان ص ٣٠٨ نمبر ٢٣٠٢) (٢) آدمی کو عام تجارت کی طرح بیع صرف اور بیع سلم کرنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔اس لئے ان میں وکالت جائز ہوگی۔
]١٣٨٦[(١٧)پس اگر جدا ہو گیا وکیل معاملہ والے سے قبضہ سے پہلے تو عقد باطل ہو جائے گا۔اور نہیں اعتبار ہے موکل کے جدا ہونے کا۔  تشریح  پہلے گزر چکا ہے کہ بیع صرف میں ثمن اور مبیع پر قبضہ سے پہلے بائع یا مشتری جدا ہو گئے تو بیع فاسد ہو جائے گی لیکن یہاں چونکہ حقوق وکیل سے متعلق ہیں اور عقد بھی اسی نے کیا ہے اس لئے وکیل کے جدا ہونے کا اعتبار ہوگا،موکل کے جدا ہونے کا اعتبار نہیں ہوگا۔ اس لئے اگر وکیل قبضہ سے پہلے جدا ہو گیا تو بیع صرف یا بیع سلم فاسد ہو جائے گی۔موکل کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ وہ عاقد نہیں ہے۔
]١٣٨٧[(١٨)اگر خرید نے کے وکیل نے قیمت اپنے مال سے دی اور مبیع پر قبضہ کیا تو اس کے لئے جائز ہے کہ موکل سے وہ قیمت وصول کرے ۔
 تشریح  کسی چیز کے خریدنے کا وکیل تھا اس لئے اس نے وہ چیز خریدی اور قیمت اپنے پاس سے دی اور مبیع پر قبضی کیا تو اس کو حق ہے کہ موکل سے پہلے چیز کی قیمت وصول کرے پھر وہ چیز حوالہ کرے ۔
 وجہ  (١) جب موکل نے وکیل بنایا تو گویا کہ وہ اس بات پر راضی ہو گیا کہ وکیل اپنے پاس سے قیمت دیں تو میں اس کو ادا کر دوںگا (٢) اب وکیل اور موکل گویا بائع اور مشتری ہیں ۔وکیل بائع ہے اور موکل مشتری ہے۔اس لئے بائع مشتری سے قیمت وصول کرے گا۔اس لئے اس کو قیمت وصول کرنے کا حق ہے۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ وکیل نے اپنی رقم موکل کے لئے پھسائی ہے تو وہ اس سے وصول کرنے کا حق رکھتا ہے۔
]١٣٨٨[(١٩)پس اگر مبیع ہلاک ہو جائے وکیل کے ہاتھ میں اس کو روکنے سے پہلے تو موکل کے مال میں سے ہلاک ہواا ور ثمن ساقط نہیں ہوگا 

حاشیہ  :  (الف) حضرت عمر  نے اپنے بیٹے ابن عمر کو بیع صرف کا وکیل بنایا۔

Flag Counter