Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

285 - 457
ویطالب بالثمن اذا اشتری ویقبض المبیع ویخاصم فی العیب]١٣٨٠[ (١١) وکل عقد یضیفہ الوکیل الی موکلہ کالنکاح والخلع والصلح عن دم العمد فان حقوقہ یتعلق بالموکل دون الوکیل فلا یطالب وکیل الزوج بالمھر ولا یلزم وکیل المرأة تسلیمھا 

ۖ بحلب ... فاذا المشرک فی عصابة من التجار فلما رآنی قال یا حبشی قلت یا لبیہ فتجھمنی وقال قولا غلیظا ... قلت من کان یطلب رسول اللہ ۖ دینا فلیحضر فما زلت ابیع واقضی واعرض واقضی حتی لم یبق علی رسول اللہ دین فی الارض (الف) (سنن للبیھقی ، باب التوکیل فی المال وطلب الحقوق وقضائھا الخ ج، سادس ،ص ١٣٣، نمبر ١١٤٣٥) اس حدیث میں یہودی نے حضرت بلال وکیل ہی سے قرض طلب کیا اور انہوں نے ہی حضور کے پاس آئے ہوئے ہدیہ سے قرض ادا کیا ۔جس سے معلوم ہوا کہ وکیل ان حقوق کا ذمہ دار ہوگا۔
]١٣٨٠[(١١)اور ہر وہ عقد جس کو وکیل اپنے موکل کی طرف منسوب کرتا ہے جیسے نکاح ، خلع ، دم عمد سے صلح،پس ان کے حقوق موکل کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں نہ کہ وکیل ساتھ۔اس لئے شوہر کے وکیل سے مہر کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور نہ عورت کے وکیل پر عورت کو سونپنا لازم ہوگا  تشریح  جن جن عقدوں میں وکیل عقد کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا کہ میں کر رہاہوں بلکہ موکل کی طرف منسوب کرتا ہے ۔مثلا شادی میں وکیل یوں کہتا ہے کہ میں آپ سے فلاں کی شادی کروا رہا ہوں،یوں نہیں کہتا کہ میں خود شادی کر رہا ہوںیا خلع میں وکیل یوں نہیں کہتا کہ میں خود خلع کر رہا ہوں بلکہ یوں کہتا ہے کہ میں فلاں کی جانب سے خلع کر رہا ہوں تو ایسے عقدوں میں تمام حقوق موکل سے متعلق ہوںگے وکیل سے نہیں ۔ بلکہ وکیل  عقد کرکے فارغ ہو جائے گا۔چنانچہ نکاح میں عورت مہر کا مطالبہ وکیل سے نہیں کرے گی بلکہ شوہر سے کرے گی۔  
وجہ  (١) ان عقود میں وکیل صرف سفیر محض ہوتا ہے کہ موکل کی بات مقابل کے سامنے پیش کرتا ہے۔اسی لئے عقد کو اپنی طرف نسبت کرنے کے بجائے موکل کی طرف نسبت کرتا ہے۔ورنہ عقد کرنے والا حقیقت میں موکل ہی ہوتا ہے۔اس لئے تمام حقوق موکل کے ساتھ متعلق ہوںگے (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔بخاری شریف میں ایک لمبی حدیث ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو حضورۖ کے سامنے پیش کیا ۔ آپۖ خاموش رہے تو ایک صحابی نے فرمایا میری ان سے شادی کروا دیجئے تو آپ نے پوچھا تمہارے پاس مہر کے لئے کچھ ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں ۔ تو آپۖ نے فرمایا تمہارے پاس قرآن کریم کی کچھ آیتیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! پس آپۖ نے ان سے شادہ کروا دی اور مہر کی ذمہ داری ان پر رکھی۔ آپۖ ان کے وکیل تھے پھر بھی مہر ادا کرنے کی ذمہ داری آپۖ پر نہیں تھی۔لمبی حدیث کا ٹکڑا پیش خدمت ہے۔ سمعت سھل بن سعد الساعدی یقول انی لفی القوم عند رسول اللہ ۖ اذ قامت امرأة فقالت ... قال ھل معک من 

حاشیہ  :  (الف) فرمایا میں نے حلب میں حضورۖ کے مؤذن بلال سے ملاقات کی ... اس وقت ایک مشرک تجار کی جماعت میں تھا۔پس جب مجھ کو دیکھا تو کہنے لگا اے حبشی! میں نے کہا کیا ہے ؟ پھر مجھ کو برا بھلا کہا اور سخت باتیں کہیں ... میں نے کہا جو حضور ۖسے دین طلب کرتے ہوں وہ آجائیں۔تو میں بیچتا رہا اور ادا کرتا رہا اور پیش کرتا رہا اور ادا کرتا رہا یہاں تک کہ حضورۖ پر زمین پر کوئی قرض باقی نہیں رہا۔

Flag Counter