Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

284 - 457
او عبدا محجورا جاز ولا یتعلق بھما الحقوق ویتعلق بموکلیھما]١٣٧٩[ (١٠) والعقود التی یعقد ھا الوکلاء علی ضربین کل عقد یضیفہ الوکیل الی نفسہ مثل البیع والشراء والاجارة فحقوق ذلک العقد یتعلق بالوکیل دون الموکل فیسلم المبیع ویقبض الثمن 

جائینگے بچے سے متعلق نہیں ہوںگے۔اور نہ بچے اس کے ذمہ دار ہوںگے۔  
وجہ  کیونکہ حدیث کی وجہ سے ان سے قلم اٹھا دیا گیا ہے اور وہ مرفوع القلم ہیں ۔اس طرح اگر محجور غلام سے حقوق متعلق ہو جائیں تو اس کے مولی کا نقصان ہوگا اس لئے غلام وکالت میں کام تو کر دے گا کیونکہ وہ عاقل بالغ ہے لیکن خریدو فروخت کے حقوق وکیل بنانے والے کے ساتھ متعلق ہوںگے،وہی لین دین ادا کرے گا ۔ غلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ کفیل نہیں بن سکتا تو وہ وکیل بھی نہیں بن سکتا کیونکہ کفالت میں وکالت بھی ہوتی ہے۔عن جابر عن عامر قالا لا کفالة للعبد(الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٤٢٩ فی العبد یکفل، ج رابع، ص٥٣٤، نمبر ٢٢٨٧٧) اس اثر میں ہے کہ غلام کے لئے کفالة نہیں ہے۔  
اصول یہ مسئلہ اس پر ہے کہ محجور کے ساتھ حقوق متعلق نہیں ہوتے۔اوپر حدیث گزری رفع القلم عن ثلاثة (ترمذی شریف ،نمبر ١٤٢٣) سمجھدار بچے کو وکیل بنانے کی دلیل یہ حدیث ہے۔ ام سلمة سے حضورۖ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کئی معذرتیں پیش کیں۔آپۖ نے سب کا حل فرمایا پھر حضرت ام سلمہ نے اپنے لڑکے عمر بن ابی سلمہ جو نا بالغ تھے لیکن سمجھدار تھے ان کو نکاح کا وکیل بنایا۔عن ام سلمة لما انقضت عدتھا ... فقالت لابنھا یا عمر قم فزوج رسول اللہ فزوجہ(نسائی شریف ، باب نکاح الابن امہ ج ثانی ص ٦٣ نمبر ٣٢٥٦)
]١٣٧٩[(١٠)وہ عقد جو وکلاء کرتے ہیں دو قسم کے ہیں۔ ہر وہ عقد جس کو وکیل اپنی طرف منسوب کرتا ہے مثلا خرید اور فروخت اور اجارہ تو ان عقدوں کے حقوق وکیل کے ساتھ متعلق ہوںگے نہ کے موکل سے،پس وہی مبیع کو سپرد کرے گا اور وہی قیمت پر قبضہ کرے گا۔اسی سے قیمت کا مطالبہ کیا جائے گا جب وہ کچھ خریدے اور وہی مبیع پر قبضہ کرے گا اور اسی سے عیب مین جھگڑا ہوگا۔  
تشریح  وکالت میں جو عقد اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اور موکل کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں مثلا میں بیع کرتا ہوں یا مین خریدتا ہوں یا مین اجارہ کرتا ہوں تو ان مین عقود کے تمام حقوق خود وکیل سے متعلق ہوتے ہیںموکل سے متعلق نہیں ہوتے۔ اس کی چند مثالیں متن میں بیان کی ہیں۔مثلا وکیل ہی مبیع مشتری کو سپرد کرے گا،وکیل ہی مبیع کی قیمت پر قبضہ کرے گا۔اگر وکیل نے کچھ خریدا ہے تووکیل ہی سے اس کی قیمت کا مطالبہ کیا جائے گا۔اور اگر مبیع میں کوئی عیب نظر آیا تو وکیل ہی مقدمہ میں خصم ہوگا ۔
 وجہ  (١) وہی عاقد ہے اور اس نے اپنی طرف عقد منسوب کیا ہے اس لئے وہی حقوق کا ذمہ دار ہوگا (٢) ایک لمبی حدیث میں ہے کہ حضرت بلال نے حضورۖ کے لئے ایک یہودی سے قرض لیا تھا تو یہودی نے حضرت بلال ہی سے قرض کا مطالبہ کیا اور بعد میں حضرت بلال ہی نے یہودی کو قرض ادا کیا۔لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔حدثنی عبد اللہ الھوزنی یعنی ابا عامر الھوزنی قال لقیت بلالا مؤذن النبی 

حاشیہ  :  (الف)  حضرت جابر اور حضرت عامر دونوں سے مروی ہے کہ غلام کے لئے کوئی کفالت نہیں ہے۔

Flag Counter