Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

283 - 457
الاحکام ]١٣٧٦[(٧) والوکیل ممن یعقل البیع ویقصدہ]١٣٧٧[ (٨) واذا وکل الحر البالغ او الماذون مثلھما جاز]١٣٧٨[ (٩) وان وکلا صبیا محجورا یعقل البیع والشراء 

ص ٢٦٣ نمبر ١٤٢٣ ابو داؤد شریف ، باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا  ص ٢٥٦ نمبر ٤٣٩٩) اس لئے اگر موکل بچہ یا مجنون ہو تو وکیل نہیں بنا سکے گا۔یا جو کام موکل نہیں کر سکتا تو اس میں وکیل نہیں بنا سکے گا۔ مثلا موکل اجنبہ عورت کو طلاق نہیں دے سکتا تو کسی کو اجنبیہ عورت کو طلاق دینے کا وکیل بھی نہیں بنا سکے گا۔
]١٣٧٦[(٧)اور وکیل ان میں سے ہو جو بیع کو سمجھتا اور اس کا قصد کرتا ہو۔  
تشریح  اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وکیل بھی عاقل بالغ ہو ۔اور بیع و شراء کیا چیز ہے ان کو سمجھتا ہو اور قصد و ارادہ سے ان کا ارتکاب کرتا ہو۔ مذاق اور کھیل نہ سمجھتا ہو۔تب وہ وکیل بن سکتا ہے۔  
وجہ  اوپر حدیث گزری کہ بچے اور معتوہ کے معاملات کا اعتبار نہیں ہے اس لئے ان کو وکیل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔اس لئے وکیل بھی عاقل و بالغ ہو یا کم از کم بیع و شراء سمجھتا ہو۔
]١٣٧٧[(٨)اگر آزاد اور بالغ یا عبد مأذون اپنے جیسوں کو وکیل بنائے تو جائز ہے۔  
تشریح  مأذون غلام یا مأذون بچہ ان کو کہتے ہیںجن کو مولی نے یا والی نے خریدو فروخت کرنے کی اجازت دی ہو۔اس لئے اگر آزاد اور بالغ آدمی کسی کو وکیل بنائے یا تجارت کی اجازت دیا ہوا غلام یا تجارت کی اجازت دیا ہوا بچہ کسی کو خریدو فروخت کا وکیل بنائے تو جائز ہے ۔
 وجہ  غلام عاقل بالغ ہے تو صرف مولی کو نقصان نہ ہو اس کی وجہ سے غلام کو خریدوفروخت کرنے سے منع کیا ہے۔لیکن اگر وہ اجازت دیدے تو غلام خود بھی خریدو فروخت کر سکتا ہے اور خریدو فروخت کا وکیل بھی بنا سکتا ہے۔یہی حال ہے سمجھدار بچے کا کہ اس کا ولی اس کو تھوڑی بہت خریدوفروخت کی اجازت دیدے تو خود بھی خریدو فروخت کر سکتا ہے اور خریدو فروخت کا وکیل بھی بنا سکتا ہے۔  
وجہ  چھوٹے موٹے کام کی ضرورت پڑتی ہے کہ سمجھدار بچے کو بھیج دے تاکہ وہ دکان سے سودا خرید لائے یا کسی کو ہدیہ پہنچا دے ۔اس لئے اس کو وکیل بنانا جائز ہے (٢) عبد مأذون کے وکیل بنانے کا اشارہ اس حدیث میں ہے۔ عن ابن مالک قال حجم ابو طیبة رسول اللہ فامر لہ بصاع من تمر وامر اھلہ ان یخففوا من خراجہ (الف) (بخاری شریف ، باب ذکر الحجام ص ٢٨٣ نمبر ٢١٠٢) اس حدیث میں ابو طیبہ غلام ہیں اور ان کو تجارت کرنے کی اجازت ہے۔
]١٣٧٨[(٩)اور اگر محجور بچے کو وکیل بنایا جو بیع و شراع سمجھتا ہو یا محجور غلام کو وکیل بنایا تو جائز ہے اور حقوق ان دونوں سے متعلق نہیں ہوںگے بلکہ ان کے موکلوں سے متعلق ہوںگے۔  
تشریح  کسی نے ایسے بچے کو وکیل بنایا جو اتنا بڑا ہے کہ خریدو فروخت کو سمجھتا ہے لیکن ہے بچہ اور اس کے ولی نے اس کو خریدو فروخت کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے تو ایسے بچے کو وکیل بنانا جائز ہے۔لیکن بیع و شراع کے جتنے حقوق لین دین کے ہیں وہ وکیل بنانے والے سے متعلق ہو 

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابو طیبہ نے حضورکو پچھنا لگایا تو آپۖ نے ان کو ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور ان کے اہل کو حکم دیا کہ ان کا ٹیکس کم کر دیں۔

Flag Counter