Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

282 - 457
بالخصومة الا برضا الخصم الا ان یکون الموکل مریضا او غائبا مسیرة ثلاثة ایام فصاعدا ]١٣٧٤[(٥) وقال ابو یوسف و محمد رحمھما اللہ یجوز التوکیل بغیر رضا الخصم ]١٣٧٥[(٦) ومن شرط الوکالة ان یکون الموکل ممن یملک التصرف ویلزمہ 

مقابل کی رضامندی کے بغیر بھی وکیل بنا سکتا ہے۔  
وجہ  وہ فرماتے ہیں کہ آدمی کی چالاکی میں فرق ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ وکیل اپنی چالاکی سے مد مقابل کو خواہ مخواہ نقصان دے اور حق فیصلہ کرانے میں دشواری پیدا کرے۔اس لئے مجبوری یا رضامندی کے بغیر خصومت کا وکیل بنانا جائز نہیں ہے۔  
نوٹ  وکیل بنالے اور فیصلہ ہو جائے تو درست ہو جائے گا۔
]١٣٧٤[(٥)اور امام بو یوسف اور امام محمد نے فرمایا بغیر مقابل کی رضامندی کے وکیل بنانا جائز ہے۔  
وجہ  اوپر اثر گزرا کہ حضرت علی بغیر کسی مجبوری کے حضرت عقیل کو خصومت کا وکیل بنایاکرتے تھے۔عن عبد اللہ بن جعفر قال کان علی بن طالب یکرہ الخصمةفکان اذا کانت لہ خصومة وکل فیھا عقیل بن ابی طالب فلما کبر عقیل وکلنی (الف) (سنن للبیھقی ، باب التوکیل فی ا؛لخصومات مع الحضور والغیبة ،ج سادس ،ص ١٣٤،نمبر١١٤٣٧)اس سے معلوم ہوا کہ مجبوری نہ ہو اور خصم راضی نہ ہو تب بھی خصومت کا وکیل بنا سکتا ہے (٢) وہ فرماتے ہیں کہ وکیل بنانا موکل کا اپنا ذاتی حق ہے۔اس لئے مقابل کی رضامندی پر موقوف نہیں ہوگا بلکہ بغیر اس کی رضامندی کے بھی خصومت میں وکیل بن سکتا ہے۔  
اصول  پہلے ایک اصول گزرا چکا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی نظر مد مقابل کے نقصان کی طرف جاتی ہے،جبکہ صاحبین کی نظر خود موکل کے نقصان کی طرف جاتی ہے۔
]١٣٧٥[(٦)اور وکالت کی شرط میں سے یہ ہے کہ موکل ان میں سے ہو جو تصرف کرنے کا مالک ہو اور اس کو احکام لازم ہوتے ہوں۔  تشریح  وکالت کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ خود وکیل بنانے والا جس چیز کا وکیل بنا رہا ہو اس کام کو کر سکتا ہو۔  
وجہ  اگر وہ خود نہیں کر سکتا ہے تو وہ دوسروں کو کرنے کا حکم کیسے دے گا؟ اور دوسری شرط یہ ہے کہ شریعت کے احکام اس پر لازم ہوتے ہوں،یعنی وہ خود عاقل ، بالغ اور آزاد ہو۔اگر وہ عاقل ، بالغ اور آزاد نہیں ہے تو اس پر شریعت کے احکام لازم نہیں ہونگے۔جب اس پر لازم نہیں ہوتے تو دوسرے کو احکام لازم کرنے کا حکم کیسے دے ؟ یعنی اس کام کو کرنے کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔  
وجہ  حدیث میں ہے نابالغ اور مجنون سے احکام اٹھا دیئے گئے ہیں۔عن علی ان رسول اللہ ۖ قال رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یشب وعن المعتوہ حتی یعقل (ب) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فیمن لایجب علیہ الحد 

حاشیہ  :  (الف) حضرت علی مقدمہ کو ناپسند فرماتے تھے۔پس ان کے لئے کوئی مقدمہ ہوتا تو وہ اس میں عقیل بن ابی طالب کو وکیل بناتے۔پس جب حضرت عقیل بوڑھے ہو گئے تو مجھے وکیل بنانے لگے(ب) ّپۖ نے فرمایا تین آدمیوں سے قلم اٹھا دیا گیا ہے سونے والے سے جب تک بیدار نہ ہو جائے اور بچے سے جب تک بالغ نہ ہو جائے اور معتوہ سے جب تک عقل والا نہ ہو جائے۔

Flag Counter