]١٣٦٥[ (٢٧) وان کانا یقسمان الربح والمضاربة علی حالھا ثم ھلک المال کلہ او بعضہ تراد الربح حتی یستوفی رب المال رأس المال ]١٣٦٦[(٢٨) فان فضل شیء
اثر ہے۔عن علی فی المضاربة ،الوضیعة علی المال والربح علی ما اصطلحوا علیہ (الف) مصنف عبدالرزاق ، باب نفقة المضارب ووضیعتہ ج ثامن ص ٢٤٨ نمبر ١٥٠٨٧ مصنف ابن ابی شیبة ١ من قال الربح علی ما اصطلح علیہ والوضیعة علی رأس المال، ج رابع، ص ٢٧٢،نمبر١٩٩٥٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہلاکت پونجی سے شمار کی جائے گی۔ اس لئے مضارب اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
]١٣٦٥[(٢٧)اور اگر دونوں نفع تقسیم کر چکے ہوں اور مضاربت اپنی حالت پر ہو ،پھر کل پونجی ہلاک ہو جائے یا بعض ہلاک ہو جائے تو دونوں نفع واپس لوٹائیں گے یہاں تک کہ مالک اصل پونجی پوری کرلے ۔
تشریح مضارب اور مالک نفع تقسیم کر چکے تھے لیکن مضاربت کا عقد اپنی حالت پر بدستور تھا اس کو ختم نہیں کیا تھا کہ اسی دوران پوری پونجی یا کچھ پونجی ہلاک ہو گئی تو قاعدہ یہ ہے کہ دونوں نے جو نفع تقسیم کیاتھا وہ واپس کرے اور اصل پونجی میں شامل کرے تاکہ مالک کی اصل رقم پوری ہو جائے۔
وجہ جب پونجی ہلاک ہو گئی تو معلوم ہوا کہ نفع تقسیم کرنا صحیح نہیں تھا۔اس لئے کہ نفع اصل پونجی پوری ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اور یہاں اصل پونجی میں کمی واقع ہو گئی ۔اس لئے نفع واپس کر کے اصل پونجی پوری کی جائے گی (٢) اصل پونجی نفع سے پوری نہ کریں تو مالک کو بلا وجہ نقصان ہوگا جس سے بچانا ضروری ہے (٣) ابھی اوپر گزرا ۔ عن ابن سیرین وابی قلابة قالا فی رجل دفع الی رجل مالا مضاربة فضاع بعضہ او وضع قالا ان کان صاحب المال لم یحاسبہ حتی ضرب بہ اخری فربح فلا ربح للمقارض حتی یستوفی صاحب المال رأس مالہ (ب)مصنف عبدالرزاق ، باب اختلاف المضاربین اذا ضرب بہ مرة اخری ج ثامن ص ٢٥١ نمبر ١٥٠٩٩) اس اثر میں ہے کہ مضارب کو اس وقت تک نفع نہیں دیا جائے گا جب تک کہ اصل پونجی پوری نہ ہو جائے۔اس لئے واپس لوٹا کر اصل پونجی پوری کی جائے گی۔
]١٣٦٦[(٢٨)پس اگر کچھ نفع بچ جائے تو دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا ۔اور اگر پونجی میں کچھ کم رہ جائے تو مضارب ضامن نہیں ہوگا۔ تشریح نفع دونوں نے واپس کیا پھر بھی ہلاکت اتنی تھی کہ اصل پونجی پوری نہیں ہو پائی تو اب اس نقص کا ذمہ دار مضارب نہیں ہوگا۔مثلا ایک ہزار درہم اصل پونجی تھی۔پھر دوسو درہم نفع کمایا تھا۔لیکن ہلاکت تین سو درہم تھی اس لئے نفع کے دوسو درہم واپس کئے۔پھر بھی ایک سو درہم پونجی میں سے باقی رہ گئے تو اس ایک سو درہم کا ضمان مضارب نہیں دے گا۔
وجہ پہلے گزر گیا ہے کہ مضارب امین ہے (٢) اثر میں تھا الوضیعة علی المال (مصنف عبد الرزاق نمبر ١٥٠٨٧) اس لئے مضارب اس
حاشیہ :(الف) حضرت علی نے فرمایا کہ مضاربت کے بارے میں ہلاکت مال پر ہوگی اور نفع صلح کے مطابق ہوگا(ب) ابن سیرین اور ابو قلابہ نے فرمایا کوئی آدمی کسی کو مال مضاربت پر دے پس کچھ مال ضائع ہو جائے ؟ فرمایا اگر مال والے نے حساب نہیں کیا ہو یہاں تک کہ دوسری مضاربت ہوئی اور نفع اٹھایا تو مضارب کو نفع نہیں ملے گا یہاں تک کہ مالک اپنی پونجی پوری کرلے۔