Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

277 - 457
المال فی الاقتضاء ]١٣٦٣[(٢٥) وما ھلک من مال المضاربة فھو من الربح دون رأس المال ]١٣٦٤[(٢٦) فان زاد الھالک علی الربح فلا ضمان علی المضارب فیہ۔ 

نوٹ  چونکہ مضارب نے عقد کیا تھا اس لئے ادھار وصول کرنا اس کے حقوق میں سے تھا۔اس لئے وہ مالک کو با ضابطہ وکیل بنائے تاکہ وہ اس کی وکالت میں ادھار وصول کر سکے ۔
 اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ تبرع اور احسان میں کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔  
لغت  دیون  :  قرض،ادھار۔  اقتضاء  :  وصول کرنا۔
]١٣٦٣[(٢٥) جو کچھ ہلاک ہو جائے مضاربت کے مال سے تو وہ نفع سے ہوگا نہ کہ اصلی پونجی سے۔   
تشریح   یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ مال کی ہلاکت پہلے نفع میں سے وضع کی جائے گی۔ہلاکت اس سے بھی زیادہ ہو تو اصل پونجی سے جائے گی۔ شروع میں ہی ہلاکت اصل پونجی سے وضع نہیں کریںگے۔اس لئے مال ہلاک ہو جائے تو پہلے نفع سے وضع کی جائے گی اصل پونجی سے نہیں۔  
وجہ  (١) نفع تابع ہے اور پونجی اصل ہے۔اس لئے ہلاکت پہلے تابع سے وضع کی جائے گی (٢) اثر میں ہے۔عن ابن سیرین و ابو قلابہ قالافی رجل دفع الی رجل مالا مضاربة فضاع بعضہ او وضع قالا ان کان صاحب المال لم یحاسبہ حتی ضرب بہ اخری فربح فلا ربح للمقارض حتی یستوفی صاحب المال رأس مالہ وان کان قد حاسبہ او آجرہ ثم ضرب بہ مرة اخری اقتسما الربح بینھما' وکان الوضیع الاول علی المال (الف) (مصنف عبدالرزاق ، باب اختلاف المضاربین اذا ضرب بہ مرة اخری ج ثامن ص ٢٥١ نمبر ١٥٠٩٩) اس اثر میں ہے کہ کچھ مال ہلاک ہو جائے اور پہلے نفع کا حساب نہ کیا ہو تو ہلاکت نفع میں سے وضع کی جائے گی۔اور اس وقت تک مضارب کو نفع نہیں ملے گا جب تک پونجی پوری نہ ہو جائے۔ اور اگر پہلا حساب ہو چکا ہو یعنی پہلا عقد ختم ہو چکا ہو پھر دوسرے عقد میں نفع ہوا ہو تو یہ نفع پہلی پونجی میں وضع نہیں کیا جائے گا۔
]١٣٦٤[(٢٦)پس اگر ہلاک ہونے والا مال نفع سے بڑھ جائے تو مضارب پر اس میں ضمان نہیں ہے۔  
تشریح  مثلا ایک ہزار درہم پونجی تھی اور دوسو درہم نفع کمایا تھا۔بعد میں تین سو درہم ہلاک ہو گئے تو دوسو درہم نفع میں سے وضع کئے جائیںگے اوربعد میں ایک سو درہم اصل پونجی سے جائے گا ۔اور مضارب اس کا ضامن نہیں ہوگا۔  
وجہ  (١) مضارب امین ہے اور بغیر تعدی کے امین سے کوئی چیز ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان لازم نہیں ہوتا ہے۔اس لئے مضارب پر ضمان لازم نہیں ہوگا (٢) پہلے اثر میں گزرا  وکان الوضیع الاول علی المال  (الف) (مصنف عبدالرزاق ، نمبر ١٥٠٩٩ (٣) حضرت علی کا 

حاشیہ  :  (الف)ابن سیرین اور ابو قلابہ نے فرمایا کوئی آدمی کسی کو مال مضاربت پر دے، پس کچھ مال ضائع ہو گیا یا ہلاک ہو گیا تو فرمایا اگرمال والے نے حساب نہ کیا ہویہاں تک کہ دوسری مرتبہ سفر کیا اور نفع اٹھایا تو مضارب کے لئے نفع نہیں ہوگا یہاں تک کہ مالک پونجی پوری کرلے۔اور اگر حساب کر چکا ہے یا اجرت پر دیا ہے پھر دوسری مرتبہ سفر کیا تو نفع آپس میں تقسیم کریںگے اور پہلی ہلاکت مال میں شمار ہوگی (ب) اور پہلی ہلاکت مال میں شمار ہوگی۔

Flag Counter