Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

279 - 457
کان بینھما وان نقص من رأس المال لم یضمن المضارب ]١٣٦٧[(٢٩)وان کانا اقتسما الربح وفسخا المضاربة ثم عقداھا فھلک المال او بعضہ لم یترادا الربح الاول ]١٣٦٨[(٣٠) ویجوز للمضارب ان یبیع بالنقد والنسیئة ]١٣٦٩[(٣١) ولا یزوج عبدا ولا امة من مال المضاربة۔

نقص کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
]١٣٦٧[(٢٩) اور اگر دونوں نے نفع تقسیم کر لیا ہو اور مضاربت توڑ دی ہو پھر دونوں نے عقد مضاربت کیا ہو پھر کل مال ہلاک ہوا تو پہلا نفع نہیں لوٹائیںگے ۔
 وجہ  پہلا عقد بالکل ختم ہو گیا ہے۔اور یہ دوسرا عقد عقد جدید ہے۔اس لئے اس کی پونجی کی ہلاکت پہلے میں شامل نہیں ہوگی۔اور پہلا نفع واپس کرکے اس پونجی کو پوری نہیں کی جائے گی (٢) اثر میں تھا۔عن ابن سیرین وابی ْلابة ...وان کان قد  حاسبہ او آجرہ ثم ضرب بہ مرة اخری اقتسما الربح بینھما وکان الوضیع الاول علی المال (الف) (مصنف عبدالرزاق،نمبر ١٥٠٩٩) اس اثر میں ہے کہ پہلے عقد کا حساب ہو گیا ہو تو دوسرے عقد کا اثر پہلے پر نہیں پڑے گا۔
]١٣٦٨[(٣٠)مضارب کے لئے جائز ہے کہ نقد بیچے یا ادھار بیچے۔  
وجہ  چونکہ تجارت میں نقد اور ادھار دونوں طرح بیچنے کا رواج ہے اس لئے مضارب کو دونوں طرح بیچنے کا حق ہوگا۔
]١٣٦٩[(٣١) اور مضارب نہ شادی کرائے غلام کی یا باندی کی مضاربت کے مال سے۔  
تشریح  مضاربت کے مال سے غلام یا باندی خریدا ہو اور اس کی شادی کروانا چاہے تو مالک کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کروا سکتا۔  
وجہ  باندی کی شادی کرانے سے مہر ملے گا،نفقہ ملے گا اور بچہ پیدا ہوگا تو وہ بھی غلام ہوگا یہ سب فوائد تو ہیں لیکن یہ تجارت کے متعلقات میں سے نہیں ہیں اس لئے مضارب باندی یا غلام کی شادی بغیر مالک کی اجازت کے نہیں کروا سکتا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مضارب متعلقات تجارت کا کام کر سکتاہے اور جو متعلقات تجارت نہ ہو ایسا کام نہیں کر سکتا۔

(الف) اور اگر حساب کر لیا ہو یا اجرت پر دیا ہو پھر دوسری مرتبہ سفر کیا تو نفع آپس میں تقسیم کریںگے اور مال کی پہلی ہلاکت پونجی میں شمار کی جائے۔

Flag Counter