Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

276 - 457
فلہ ان یبعھا ولا یمنعہ العزل من ذلک ثم لا یجوز ان یشتری بثمنھا شیئا آخرؤ١٣٦١[ (٢٣) وان عزلہ ورأس المال دراھم او دنانیر قد نضت فلیس لہ ان یتصرف فیھا]١٣٦٢[ (٢٤) واذا افترقا وفی المال دیون وقد ربح المضارب فیہ اجبرہ الحاکم علی اقتضاء الدیون وان لم یکن فی المال ربح لم یلزمہ الاقتضاء ویقال لہ وکل رب 

سامان بیچ کر نقد بنا سکتا ہے تاکہ نقد ہونے کے بعد نفع کا حساب کر سکے۔ البتہ اس قیمت سے اب دوسری چیز نہ خریدے تاکہ مضاربت کا معاملہ آگے نہ بڑھے اور مالک کو نقصان نہ ہو۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ چاہے مضارب کو معزول کردیا ہو لیکن اگر اس کا نقصان ہو رہا ہو تو نقصان کی تلافی تک وہ معزول نہیں ہوگا۔لا ضرر ولا ضرار۔
]١٣٦١[(٢٣)اور اگر مضارب کو معزول کیا اس حال میں کہ رأس المال نقد درہم یا دینار ہو تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس میں تصرف کرے ۔
 وجہ  سامان تھا اس لئے بیچنے کی اجازت تھی کہ نقد درہم یا دینار یا سکہ ہو جائے اور آسانی سے نفع کا حساب کر سکے لیکن پہلے سے نقد درہم ، دینار یا سکہ ہوں تو اب اس کو تصرف کیوں کرے۔اس لئے کہ اب اس میں تصرف کرنے میں مالک کا نقصان ہوگاکہ بغیر اس کی مرضی کے مضاربت کی میعاد بڑھتی جائے گی۔اس لئے اب اس میں تصرف کرنا جائز نہیں۔  
لغت  نضت  :  سامان کے بعد نقد ہوا ہو۔
]١٣٦٢[(٢٤)اگر مالک اور مضارب علیحدہ ہوئے اور مال ادھار میں ہے اور مضارب اس سے نفع لے چکا ہے تو حاکم اس کو ادھار وصول کرنے پر مجبور کرے گا ۔اور اگر مال میں نفع نہ ہوا ہو تو مضارب کو ادھار وصول کرنا لازم نہیں ہے۔ اس کو کہا جائے گا کہ مالک کو وصول کرنے کا وکیل بنادے۔  
تشریح  مالک اور مضارب مضاربت سے جدا جدا ہو رہے ہیں ۔اور صورت حال یہ ہے کہ کچھ مال مضاربت ادھار پر گیا ہوا ہے ،اب اس کی قیمت کون وصول کرے ؟ مالک یا مضارب ؟ تو فرماتے ہیں کہ اگر مضارب اس مال سے نفع لے چکا ہے تو ادھار وصول کرنا مضارب کا کام ہے۔  
وجہ  جب مضارب نے نفع لیا تو گویا کہ وہ اجیر کے مانند ہو گیا۔اس نے بیچنے ، خریدنے اور ادھار وصول کرنے کی اجرت لے لی۔اس لئے ادھار وصول کرنا اس پر لازم ہوگا۔ اور اگر نفع نہیں لیا ہے تو مضارب تبرع اور احسان کے طور پر بیچنے خریدنے کا وکیل بنا ہوا ہے۔اور تبرع اور احسان والے کو مزید کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس لئے حاکم اس کو ادھار وصول کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔البتہ مضارب اس ادھار کو وصول کرنے کا وکیل مالک کو بنادے تاکہ اس کی وکالت میں وہ ادھار وصول کر سکے اور اس کا مال ضائع نہ ہو۔  

Flag Counter