للمضارب الثانی مقدار سدس الربح من مالہ ]١٣٥٧[ (١٩) واذا مات رب المال او المضارب بطلت المضاربة ]١٣٥٨[(٢٠) واذا ارتد رب المال عن الاسلام ولحق بدار الحرب بطلت المضاربة ]١٣٥٩[(٢١) وان عزل رب المال المضارب ولم یعلم بعزلہ حتی اشتری او باع فتصرفہ جائز ]١٣٦٠[(٢٢) وان علم بعزلہ والمال عروض فی یدہ
]١٣٥٧[(١٩)اگر مالک یا مضارب کا انتقال ہو گیا تو مضاربت باطل ہو جائے گی۔
وجہ مضاربت میں مضارب مالک کا وکیل ہوتا ہے اور انتقال ہونے سے وکالت باطل ہو جاتی ہے اس لئے دونوں میں سے کسی ایک کے انتقال سے مضاربت باطل ہو جائے گی (٢) حدیث میں ہے ۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاثة اشیاء (ابو داؤد شریف ، باب ماجاء فی الصدقة عن المیت، ج ثانی ،ص ٤٢ ،نمبر ٢٨٨٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انتقال سے مضاربت باطل ہو جائے گی۔
]١٣٥٨[(٢٠) اگر مالک اسلام سے مرتد ہو جائے اور دار الحرب چلا جائے تو مضاربت باطل ہو جائے گی۔
تشریح اسلام سے مرتد ہو کر دار الحرب چلے جانے سے اندازہ ہے کہ کبھی واپس نہیں آئے گا تو وہ مرنے کے درجے میں ہو گیا۔اس لئے ان مضاربت باطل ہو جائے گی
۔ وجہ حدیث اوپر گزر گئی اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ۔
]١٣٥٩[(٢١) اگر مالک نے مضارب کو معزول کر دیا اور اس کو اپنے معزول ہونے کا علم نہیں ہوا یہاں تک کہ خریدا یا بیچا تو اس کا تصرف جائز ہے۔
تشریح یہ مسئلہ اس قاعدہ پر ہے کہ مالک اپنے اختیار سے معزول کرنا چاہے تو اس وقت معزول ہوگا جب مضارب کو اپنی معزولی کا علم ہو جائے گا۔اس سے قبل وہ مضارب بحال رہے گا اس لئے معزول کرنے کے بعد علم ہونے سے پہلے مضارب نے جو کچھ تصرف کیا ،خریدا یا بیچا تو وہ جائز ہے۔
اصول اختیاری معزولی میں وکیل کو علم سے پہلے وہ معزول نہیں ہوگا۔
]١٣٦٠[(٢٢)اور اگر معزول کرنے کی اطلاع ہوئی اور مال اس کے ہاتھ میں سامان تھا تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کو بیچے اور معزول کرنا مضارب کو بیچنے سے نہیں روکے گا۔پھر اس کی قیمت سے اور چیز خریدنا جائز نہیں ہے۔
تشریح مالک نے مضارب کو معزول کر دیا اور اس کو معزولی کی اطلاع بھی ہوئی لیکن اس وقت اس کے پاس مضاربت کا سامان تھا تو وہ سامان بیچ سکتا ہے۔ البتہ جب سامان کی قیمت آجائے تو اس قیمت سے مزید کوئی چیز نہ خریدے ۔
وجہ مضارب کے نفع کا حساب نقد مال یعنی درہم اور دینار میں ہو سکے گا،سامان میں نہیں ہو سکے گا اور مضارب کا نفع میں حق ہے اس لئے