Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

274 - 457
رب المال والمضارب الاول نصفان ]١٣٥٥[ (١٧) فان قال علی ان ما رزق اللہ فلی فلی نصفہ فدفع المال الی آخر مضاربة بالنصف فللثانی نصف الربح ولرب المال النصف ولا شیء للمضارب الاول]١٣٥٦[ (١٨) فان شرط للمضارب الثانی ثلثی الربح فلرب المال نصف الربح و للمضارب لثانی نصف الربح ویضمن المضارب الاول 

تہائی اور جو نفع باقی رہا وہ مالک اور مضارب اول کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔  
تشریح  پہلے قول اور اس قول میں فرق ہے۔اس لئے نفع تقسیم ہونے میں فرق ہو گیا۔پہلے میں مالک نے مضارب سے کہا تھا کہ جتنا نفع ہو اس تمام میں سے مجھے آدھا چاہئے،باقی آپ جانیں ۔اور اس مسئلے میں یہ ہے کہ مالک نے مضارب اول سے یہ کہا کہ جو کچھ آپ کو نفع ہوگا اس آپ کے نفع میں سے مجھے آدھا نفع دیں۔ اس صورت میں ایک تہائی مضارب ثانی کے پاس چلا گیا۔اب باقی دو تہائی رہے۔اس دو تہائی میں سے آدھا آدھا یعنی ایک ایک تہائی مالک اورمضارب اول تقسیم کریںگے۔کلکیو لیٹر والا حساب اس طرح ہوگا۔مضارب ثانی کے لئے %33.33  باقی نفع رہا  %66.66  اس میں سے آدھا مالک کو ملے گا  %33.33  اور مضارب اول کو ملے گا  % 33.33  گویاکہ تینوں کو ایک ایک تہائی مل جائے گی۔
]١٣٥٥[(١٧)اور اگر مالک نے کہا ہو کہ جو کچھ اللہ دے اس میں سے میرا آدھا ہوگا پھر بھی دوسرے کو مال مضاربت کے طور پر آدھے پر دیا ہو تو مضارب ثانی کے لئے آدھا نفع ہوگا اور مضارب اول کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔  
تشریح  مالک نے کہا تھا کہ جتنا نفع ہو سب میں سے آدھا میرا ہوگا۔اس کے باوجود مضارب نے دوسرے کو آدھے نفع کی شرط پر مضاربت پر دے دیا تو اس صورت میں آدھا نفع مالک کو ملے گا  % 50  اور آدھا نفع مضارب ثانی کو ملے گا  %50  اب باقی کچھ نہیں رہا اس لئے مضارب اول کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔
]١٣٥٦[(١٨) اور اگر شرط کیا مضارب ثانی کے لئے نفع کی دو تہائی تو مالک کے لئے نفع کا آدھا ہوگا اور مضارب ثانی کے لئے نفع کا آدھا ہوگا اور مضارب اول مضارب ثانی کے لئے نفع کے چھٹے کی مقدار کا ضامن ہوگا اپنے مال میں سے۔  
تشریح  مالک نے کہا تھا کہ میں پورے نفع کا آدھا لوں گا۔اور مضارب اول نے دوسرے مضارب کو پورے نفع کی دو تہائی پر دے دیا تو آدھے نفع میں سے بھی ایک چھٹا حصہ زیادہ نفع دے دیا تو اس چھٹے حصے کا ذمہ دار مضارب اول ہوگا ۔
 وجہ  کیونکہ اسی نے ہی دو تہائی نفع دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کلکیو لیٹر والا حساب اس طرح ہوگا۔مالک کا آدھا ہوگا  % 50  مضارب ثانی کا  %66.66  دو تہائی اور مضارب اول اپنے مال میں سے ادا کرے گا  %16.66  ایک چھٹا حصہ۔  
اصول  یہ مسئلے اس اصول پر ہیں کہ جیسی جیسی شرطیں آپس میں طے ہوئی ہیں نفع اسی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا (٢) المسلمون عند شروطھم  (بخاری شریف نمبر ٢٢٧٤)

Flag Counter