الثانی حتی یربح ]١٣٥١[(١٣) فاذا ربح ضمن المضارب الاول المال لرب المال ]١٣٥٢[(١٤) واذا دفع الیہ مضاربة بالنصف فاذن لہ ان یدفعھا مضاربة فدفعھا بالثلث جاز ]١٣٥٣[(١٥) فان کان رب المال قال لہ علی ان ما رزق اللہ تعالی بیننا نصفین فلرب المال نصف الربح واللمضارب الثانی ثلث الربح وللاول السدس]١٣٥٤[ (١٦) وان کان قال علی ان ما رزقک اللہ بیننا نصفین فللمضارب الثانی الثلث وما بقی بین
تھی۔اس لئے اب مضارب اول رب المال کا ضامن ہوگا ۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مضاربت میں ضمان کا معاملہ حقیقی مضاربت شروع ہونے کے بعد ہوگا۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جب مضارب ثانی نے کام شروع کر دیا تو مضاربت شروع ہو گئی۔اس لئے کام شروع کرنے پر مضارب اول رب المال کا ضامن ہوگا۔ چاہے ابھی نفع حاصل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
]١٣٥١[(١٣) پس جب نفع ہو مضارب اول مالک کے لئے مال کا ضامن ہوگا۔
تشریح مال سپرد کر دیا پھر مضارب ثانی نے کام شروع کیا پھر جب نفع ہوا تب مضارب اول رب المال کے مال کا ضمان ہوگا۔
وجہ کیونکہ اب حقیقت میں مضارب ثانی مضارب بن گیا اور نفع میں بھی شریک ہو گیا۔
]١٣٥٢[(١٤)اگر مالک نے مضارب کو آدھے نفع پر مضاربت پر دیا پھر اس کو اجازت دی کہ دوسرے کو مضاربت پر دے سکتا ہے۔پس اس نے تہائی نفع پر دیا تو جائز ہے۔
تشریح مالک نے مضارب کو مال دیا اور یہ بھی کہا کہ میرے اور آپ کے درمیان نفع آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔البتہ آپ اس مال کو دوسروں کو بھی مضاربت کے طور پر دے سکتے ہیں۔ اب اس نے دوسرے مضارب کو تہائی نفع پر مال دیا تو جائز ہے۔ اب آگے مالک نے کس انداز سے تقسیم نفع کا حساب طے کیا اس کی تین صورتیں ہیں جو آگے آرہی ہیں۔
]١٣٥٣[(١٥)پس اگر مالک نے مضارب سے کہا ہو کہ جو کچھ اللہ دے اس کا ہم دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا تو مالک کا آدھا نفع ہوگا اور مضارب ثانی کی ایک تہائی ہوگی اور مضارب اول کے لئے چھٹا حصہ ہوگا۔
تشریح چونکہ مالک نے یہ کہا تھا کہ جتنا نفع ہوگا اس میں آدھا میرا ہوگا تو باقی آدھا نفع رہا۔اس میں سے ایک تہائی مضارب ثانی کو دے دیا۔مثلا چھ درہم نفع ہوا،آدھا یعنی تین درہم مالک کا ہو گیا اور ایک تہائی یعنی دو درہم مضارب ثانی کے ہو گئے،باقی ایک درہم یعنی چھٹا حصہ باقی رہا یہ مضارب اول کے ملے گا۔ اس دور کا کلکیو لیٹر والا حساب اس طرح ہوگا مالک کا سو میں سے %50 مضارب ثانی کا 33.33 % مضارب اول کاحصہ %16.66 ہوگا۔
]١٣٥٤[(١٦)اوراگر مالک نے کہا ہو جو کچھ آپ کو اللہ دے اس میں سے ہمارے اور آپ کے درمیان آدھا آدھا ہوگا تو مضارب ثانی لئے