]١٣٤٩[(١١) فان زادت قیمتھم عتق نصیبہ منھم ولم یضمن لرب المال شیئا ویسعی المعتق لرب المال فی قیمة نصیبہ منہ]١٣٥٠[ (١٢) واذا دفع المضارب المال مضاربة علی غیرہ ولم یأذن لہ رب المال فی ذلک لم یضمن بالدفع ولا بتصرف المضارب
]١٣٤٩[(١١)پس اگر غلام کی قیمت زیادہ ہو گئی تو مضارب کا حصہ غلام سے آزاد ہو جائے گا اور مضارب رب المال کا کچھ ضامن نہیں ہوگا۔اور آزاد ہونے والا غلام رب المال کے لئے اس کے حصے کی قیمت میں سعی کرے گا۔
تشریح مال مین نفع نہیں تھا ایسی صورت میں مضارب نے اپنے آزاد ہونے والے رشتہ دار کو خرید لیاجو اس کے لئے جائز تھا،بعد میں اس غلام کی قیمت بڑھ گئی،مثلا ایک ہزار میں غلام خریدا تھا اب اس کی قیمت بارہ سو درہم ہو گئی تو دوسو درہم میں سے ایک سو نفع رب المال کا ہوا اور ایک سو نفع مضارب کا ہوا اس لئے مضارب کا جو ایک سو نفع ہے وہ حصہ آزاد ہو جائے گا۔لیکن چونکہ آزاد ہونے میں مضارب کی کوئی حرکت نہیں ہے،خود بخود آزاد ہوا ہے اس لئے مضارب رب المال کے لئے کسی چیز کا ضامن نہیں ہوگا۔اب غلام کا چونکہ بارہ سو میں ایک سو آزاد ہوا ہے باقی گیارہ سو رب المال کا ہے اس لئے غلام گیارہ سو درہم سعایت کرکے رب المال کو ادا کرے گاجو رب المال کا حصہ ہے اور پھر غلام مکمل آزاد ہو جائے گا۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ حادثاتی طور پر مضارب کی بغیر کسی حرکت کے رب المال کو نقصان ہو جائے تو مضارب اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔اور دوسرا اصول یہ ہے کہ مضارب نے آزاد نہیں کیا ہے بلکہ غلام خود آزاد ہوا ہے اس لئے مضارب سے غلام کی بقیہ قیمت وصول نہیں کی جائے گی بلکہ غلام رب المال کا حصہ سعی کر کے ادا کرے گا۔
لغت یسعی : سعایت کرے گا، غلام مال کما کر مولی کو ادا کرے گا تاکہ مکمل آزاد ہو جائے۔
]١٣٥٠[(١٢) اگر مضارب نے مال دوسرے کو مضاربت پر دیا حالانکہ رب المال نے اس کو مضاربت پر دینے کی اجازت نہیں دی تھی تو صرف دینے سے ضامن نہیں ہوگا۔
تشریح رب المال نے مضارب کو مضاربت پر مال دینے کی اجازت نہیں دی تھی اس کے با وجود اس نے دوسرے کو مضاربت پر مال دے دیا تو مضارب رب المال کے مال کا ضامن ہوگا۔ لیکن کب ہوگا اس بارے میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ صرف مال حوالے کرنے سے نہیں ہوگا۔ اسی طرح مضارب ثانی کے کام شروع کرنے سے ضامن نہیں ہوگا بلکہ جب مضارب ثانی کام کرکے اس میں کچھ نفع کمالے گا تب مضارب اول رب المال کا ضامن ہوگا ۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ صرف مال حوالہ کرنے سے ابھی مضاربت شروع نہیں ہوئی بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ابھی امانت کے طور پر مضارب ثانی کے پاس مال ہے۔ اور جب کام شروع کرے گا تو کہا جا سکتا ہے کہ بضاعت کے طور پر کام کر رہا ہے یعنی اجرت لے کر کام کر رہا ہے ۔لیکن جب نفع حاصل ہو گیا تو اب نفع میں شریک ہو نے کی وجہ سے مضارب ثانی حقیقت میں مضارب بن گیا۔جس کی رب المال کی جانب سے اجازت نہیں