Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

271 - 457
ان وقت المضاربة بعینھا جاز وبطل العقد بمضیھا ]١٣٤٧[(٩) ولیس للمضارب ان یشتری ابا رب المال ولا ابنہ ولا من یعتق علیہ فان اشترٰیھم کان مشتریا لنفسہ دون المضاربة ]١٣٤٨[(١٠) وان کان فی المال ربح فلیس لہ ان یشتری من یعتق علیہ وان اشترٰیھم ضمن مال المضاربة وان لم یکن فی المال ربح جاز لہ ان یشتریھم۔

]١٣٤٧[(٩) اور مضارب کے لئے جائز نہیں ہے کہ خریدے مال والے کے باپ کو اور نہ اس کے بیٹے کو اور نہ ایسے آدمی کو جو اس پر آزاد ہو جائے،پس اگر ان لوگوں کو خریدا تو اپنے لئے خریدنا ہوگا نہ مضاربت کے لئے۔  
تشریح  یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ مضارب کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے مال والے کو نقصان اٹھانا پڑے۔مثلا مال والے کے باپ کو خریدے گا تو وہ مال والے پر آزاد ہو جائے گا تو اس سے رب المال کو نفع کے بجائے نقصان ہوگا۔اسی طرح اس کے بیٹے کو خریدے گا ۔یا ایسے آدمی کو خریدا جو مال والے پر آزاد ہو سکتے ہوں مثلا اس کے قریبی رشتہ دار کو خریدا تو ایسی صورت میں وہ مضاربت کے لئے نہیں ہوگا بلکہ خود مضارب کے لئے ہوگا۔  
وجہ  (١) ایک تو اوپر دار قطنی اور سنن بیہقی کی حدیث گزری کہ فائدے کی شرط لگا سکتا ہے (٢) اثر میں ہے۔عن ابن سیرین قال اذا خالف المضارب ضمن (الف) (مصنف عبدالرزاق ، باب ضمان المقارض اذا تعدی ولمن الربح ؟ ج ثامن ص ٢٥٢ نمبر ١٥١٠٧) اس سے معلوم ہوا کہ مضارب نے مخالفت کی تو وہ ضامن ہوجائے گا۔
]١٣٤٨[(١٠)اگر مال میں نفع ہوا تو مضارب کے لئے جائز نہیں ہے کہ خریدے ایسے آدمی کو جو مضارب پر آزاد ہو جائے اور اگر اس کو خریدا تو مضاربت کے مال کا ضامن ہو جائے گا۔اور اگر مال میں نفع نہ ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کو خریدے۔  
تشریح   اگر مال میں نفع ہو تو مضارب کے لئے یہ جائز نہیں کہ مضارب اپنے ایسے رشتہ دار کو خریدے جو مضارب پر آزاد ہو سکتا ہو،مثلا اپنے باپ یا بیٹے وغیرہ کو،البتہ اگر نفع نہیں ہے تو ایسے رشتہ دار کو خرید سکتا ہے۔  
وجہ  اگر مال میں نفع ہے تو کچھ نہ کچھ نفع مضارب کا بھی ہوگا اس لئے جتنا حصہ مضارب کا ہوگا اتنا حصہ آزاد ہو جائے گا۔اب رب المال کو نقصان ہوگا کہ اس کو بھی آزاد کرنا ہوگایا سعی کروانا ہوگا۔اور یہ نقصان مضارب کے اپنے رشتہ دار کو خریدنے سے ہوا اس لئے مضارب اس کے اپنے آزاد ہونے والے رشتہ دار کو نہیں خرید سکتا۔ البتہ اگر مال میں نفع نہیں ہے تو مضارب کا حصہ اس میں کچھ بھی نہیں ہے اس لئے مضارب کا رشتہ دار آزاد نہیں ہوگا۔ اس لئے ایسی صورت میں مضارب اپنا آزاد ہونے والے رشتہ دار خرید سکتا ہے۔  
اصول  یہ مسئلہ بھی اوپر کے اصول پر ہے کہ مضارب کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جس سے رب المال کو نقصان ہو۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت محمد ابن سیرین نے فرمایا مضارب شرط کی مخالفت کرے تو ضامن ہوگا۔

Flag Counter