فی ذلک او یقول لہ اعمل علی رأیک]١٣٤٥[(٧) وان خص لہ رب المال التصرف فی بلد بعینہ او فی سلعة بعینھا لم یجز لہ ان یتجاوز عن ذلک ]١٣٤٦[(٨) وکذلک
کے مطابق عمل کریں۔
تشریح یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ جو عہدہ اس کو سپرد کیا ہے اسی قسم کا عہدہ دوسرے کو اپنے اختیار سے نہیں دے سکتا۔مثلا مال والے نے اس کو مضارب بنایا ہے تو یہ اپنے اختیار سے اس مال کا کسی کو مضارب نہیں بنا سکتا اور اس مال کو مضاربت پر نہیں دے سکتا۔ہاں ! اس کو مضارب بنانے کا اختیار دیا ہو یا کہا ہو کہ اپنی رائے کے مطابق عمل کیا کریں تو اب اس مال کو دوسرے کو مضاربت پر دے سکتا ہے۔
وجہ صاحب مال نے مضاربت کے بارے میں مضارب پر اعتماد کیا ہے،کسی دوسرے پر نہیں اس لئے بغیر اختیار دیئے ہوئے دوسرے کو مضاربت پر مال نہیں دے سکتا (٢) مضاربت پر دینا تجارت کے حقوق میں سے نہیں ہے۔اس لئے اس کے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
]١٣٤٥[(٧)اگر مال والے نے تصرف کرنا کسی متعین شہر میں خاص کیا یا متعین سامان میں خاص کیا تو مضارب کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس سے تجاوز کرے۔
تشریح مال والے نے شرط لگائی کہ صرف فلاں شہر میں تجارت کریںگے یا صرف فلاں چیز کی تجارت کریںگے۔مثلا کپڑے کی تجارت کریںگے تو ایسا کرنا جائز ہے۔اور ایسی شرط کی مخالفت کرنا مضارب کے لئے جائز نہیں ہے ۔
وجہ یہ شرطیں اس لئے لگائی جاتی ہیں تاکہ مال ہلاک نہ ہو یا نفع زیادہ ہو،اس لئے ایسی شرط لگانا جائز ہے ۔اور چونکہ شرط ہو گئی اس لئے مضارب کو اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے (٢) پہلے گزر چکی ہے۔وقال النبی ۖ المسلمون عند شروطھم (الف) (بخاری شریف نمبر ٢٢٧٤) (٢) اوپر دار قطنی اور سنن بیہقی کی حدیث گزری کہ حکیم بن حزام اور حضرت عباس مضارب کو دیتے وقت شرط لگاتے تھے کہ میرے مال سے کوئی جاندار نہیں خریدنا۔ اس کو لیکر سمندر کا سفر نہ کرنا،اس کو لیکر کسی وادی میں قیام نہ کرنا،اور تم نے ایسا کیا اور مال ہلاک ہوا تو تم اس کے ذمہ دار ہوگے (دار قطنی نمبر ٣٠١٤ سنن للبیھقی ،کتاب القراض ج سادس ص ١١١) جس سے معلوم ہوا کہ ایسی شرط لگانا جائز ہے۔ اصول مضاربت میں تعین شہر اور تعین سامان جائز ہے۔
لغت سلعة : سامان۔
]١٣٤٦[(٨) ایسے ہی اگر مالک نے مضاربت کی مدت متعین کر دی تو جائز ہے اور عقد اس وقت کے گزرنے سے باطل ہو جائے گا۔ تشریح مثلا مالک نے کہا کہ تین مہینے تک مضاربت پر مال لے سکتے ہو اس کے بعد مضاربت ختم ،تو اس طرح مضاربت کے لئے وقت متعین کرنا جائز ہے۔اور جب معینہ وقت گزر جائے گا تو مضاربت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
وجہ شرط متعین کرنے کے لئے اوپر دار قطنی اور بیہقی کی حدیث گزر چکی ہے (٢) مالک کا مال ہے اس لئے وہ اپنی سہولت کے لئے وقت متعین کر سکتا ہے۔
حاشیہ : (الف) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ان کے شرطوں کے پاسبان ہیں۔