مسماة]١٣٤٢[ (٤) ولا بد ان یکون المال مسلما الی المضارب ولا ید لرب المال فیہ ]١٣٤٣[(٥) فاذا صحت المضاربة مطلقة جاز للمضارب ان یشتری ویبیع ویسافر ویبضع ویوکل ]١٣٤٤[(٦) ولیس لہ ان یدفع المال مضاربة الا ان یأذن لہ رب المال
مستثنی کرنے سے مضاربت صحیح نہیں ہوگی۔
]١٣٤٢[(٤)اور ضروری ہے کہ مال سپرد کیا ہوا ہو مضارب کی طرف اور مال والے کا اس پر قبضہ نہ ہو۔
تشریح مضاربت کی شرط میں سے یہ ہے کہ مال مضارب کو مکمل طور پر سپرد کردے تاکہ وہ تجارت کر سکے اور اس پر مال والے کا کوئی قبضہ نہ ہو۔ وجہ اگر مال والے کا قبضہ ہوگا تو مضارب اپنی مرضی سے تجارت نہیں کر سکے گا اور کما حقہ نفع نہیں کما سکے گا۔اس لئے مضارب کو مکمل طور پر مال سپرد کرنا ضروری ہے۔اور یہ بھی ہو کہ صاحب مال کا اس پر قبضہ نہ رہے (٢) ضروری نوٹ کی حدیث میں حضورۖ نے عروة کو مکمل طور پر دینار سپرد کیا تھا جس کی وجہ سے وہ دو بکری خریدے اور ایک بکری بیچ کر ایک دینار نفع لیکر آئے جس سے معلوم ہوا کہ مال پورے طور پر سپرد کرنا ضروری ہے۔
]١٣٤٣[(٥)پس جب مضاربت مطلق ٹھہر جائے تو مضارب کے لئے جائز ہے کہ خریدے اور بیچے اور سفر کرے اور بضاعت پر دے اور وکیل بنائے۔
تشریح جب مضاربت صحیح ہو جائے اور وہ بھی مطلق ہو ،اس میں کسی قسم کی قید نہ ہو تو وہ تمام کام کر سکتا ہے جو تجارت کے لئے مفید ہو اور نفع بخش ہو۔مثلا اس کے رأس المال سے کوئی چیز خرید سکتا ہے پھر اس کو بیچ سکتا ہے۔اس مال کو لیکر سفر کر سکتا ہے۔کیونکہ ضرب کے معنی ہی سفر کرناہے۔ اور اس مال کو بضاعت پر دے سکتا ہے۔ بضاعت کا مطلب ہے کہ کسی کو کام کرنے کیلئے مال دے کہ اس پر کچھ مزدوری دے دیںگے۔
فائدہ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مضاربت کے مال کو لیکر ایسا سفر نہیں کر سکتا جس سے مال کی ہلاکت کا خطرہ ہو۔
وجہ ان کی دلیل یہ اثر ہے۔ ان حکیم بن حزام صاحب رسول اللہ ۖ کان یشرط علی الرجل اذا اعطاہ مالا مقارضة یضرب لہ بہ ان لا تجعل مالی فی کبد رطبة ولا تحملہ فی بحر ولا تنزل بہ بطن مسیل فان فعلت شیئا من ذلک فقد ضمنت مالی (الف) ( دار قطنی، کتاب البیوع ج ثالث ص ٥٣ نمبر ٣٠١٤)اورسنن بیہقی میں اس حدیث میں یہ جملہ زیادہ ہے فرفع شرطہ الی رسول اللہ ۖ فاجازہ (ب) (سنن للبیھقی ، کتاب القراض، ج سادس، ص١٨٤،نمبر١١٦١١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی شرط لگانا جائز ہے جس سے مال کی ہلاکت کا خطرہ ہو۔
]١٣٤٤[(٦) اور مضارب کے لئے جائز نہیں ہے کہ مال کو مضاربت پر دے مگر یہ کہ مال والا اس کی اجازت دے،یا کہہ دے کہ اپنی رائے
حاشیہ : (الف) حضورۖ کے صحابی حکیم بن حزام آدمی پر شرط لگاتے جب مال مضاربت پر دیتے کہ جب اس کو لیکر سفر کرے تو میرا مال کسی جاندار کے خریدنے میں نہ لگائیں اور نہ اس کو لیکر سمندر کا سفر کرے اور اس کو لیکر کسی وادی میں قیام نہ کریں،پس اگر آپ نے ایسا کیا تو میرے مال کے ضامن ہوںگے (ب) حضورۖ کے سامنے یہ شرطیں رکھی تو آپۖ نے اس کی اجازت دی۔