]١٣٤١[ (٣) ومن شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعا لا یستحق احدھما منہ دراھم
تشریح شرکت میں بیان کیا کہ درہم ، دینار اور رائج سکوں کے ذریعہ شرکت صحیح ہے۔سامان کے ذریعہ نہیں۔اسی طرح مضاربت بھی درہم ، دینار اور رائج سکوں کے ذریعہ صحیح ہے،سامان کے ذریعہ نہیں۔
نوٹ سامان دے دے اور کہے کہ اس کو بیچ کر جو درہم یا دینار آئے اس میں مضاربت کریں تو درست ہے۔کیونکہ وکالت کے طور پر پہلے سامان بیچے گا پھر جو قیمت آئے گی وہاں سے مضاربت شروع ہوگی تو گویا کہ درہم یا دینار سے مضاربت شروع ہوئی۔
وجہ اثر میں ہے۔ عن ابراھیم انہ کرہ البز مضاربة یقول لا،الا الذھب والفضة،قال سفیان ونحن نقول لہ اجر مثلہ اذا اعطاہ العروض مضاربة(الف) مصنف عبدالرزاق ،باب ا لمضاربة بالعروض ج ثامن ص ٢٥٠ نمبر ١٥٠٩٥)اس اثر سے معلوم ہوا کہ سامان کے ذریعہ مضاربت صحیح نہیں ہے۔البتہ سامان بیچنے کے بعد اس کی قیمت میں مضاربت شروع ہوگی اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن حماد فی رجل دفع الی رجل مالا مضاربة فقوم المتاع الف درھم ثم باعہ بتسع مائة قال رأس المال تسع مائة (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ١٩٩ فی الرجل یدفع الی الرجل الشیء مضاربة،ج رابع، ص ٤١٣،نمبر٢١٥٧١ موطا امام مالک، باب القراض فی العروض ص ٦٢١)اس اثر میں سامان نوسو میں فروخت ہوا تو نو سو درہم مضاربت کا رأس المال ٹھہرا اور وہاں سے مضاربت شروع ہوئی۔
]١٣٤١[(٣)اور مضاربت کی شرط میں سے یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان مشترک ہو۔ان دونوں میں سے ایک متعین درہم کا مستحق نہ ہو تشریح جو کچھ نفع ہو اس میں سے شرط کے مطابق دونوں کا ہو،ایسا نہ ہو کہ مثلا نفع میں سے پچاس درہم ایک شریک کو پہلے دے دیا جائے باقی جو بچے اس میں سے دونوں تقسیم کریں،ایسی شرط نہ ہو۔
وجہ ممکن ہے کہ صرف پچاس درہم ہی نفع ہو تو وہ ایک کو مل جائیںگے اور دوسرے شریک کو کچھ نہیں ملے گا۔اس لئے ایسی شرط فاسد ہے(٢) کئی مرتبہ حدیث گزر چکی ہے کہ متعین درہم مستثنی کرنا درست نہیں ہے۔عن رافع بن خدیج قال حدثنی عمائی انھم کانوا یکرون الارض علی عھد النبی ۖ بما ینبت علی الاربعاء او بشیء یستثنیہ صاحب الارض فنھی النبی ۖ عن ذلک (ج) (بخاری شریف ، باب کراء الارض بالذھب والفضة ص ٣١٦ نمبر ٢٣٤٦)اس حدیث میں مستثنی کرنے کو منع فرمایا ہے۔اثر میں ہے عن قتادة فی رجل قال لہ ابیعک ثمر حائطی بمائة دینار الا خمسین فرقا فکرھہ (د) (مصنف عبدالرزاق ، باب یبیع الثمر ویشترط منھا کیلا ج ثامن ص ٢٦١ نمبر ١٥١٤٨) اس اثر میں بھی متعین چیز کو مستثنے کرنے کو مکروہ سمجھا ہے۔اس لئے نفع میں سے متعین درہم کو
حاشيہ : (الف) حضرت ابراہيم نخعي کپڑے کو مضاربت کے طور پر دينے کو مکروہ سمجھتے تھے،وہ فرماتے تھے کہ ايسا مت کرو سوائے سونے اور چاندي کے?حضرت سفيان نے فرمايا ہم کہتے ہيں کہ مضارب کو اجرت مثل ملے گي اگر سامان کو مضاربت پر ديا(ب) حضرت حماد فرماتے ہيں کہ ايک آدمي نے مال مضاربت پر ديا اور سامان کي قيمت ايک ہزار لگائي ،پھر اس کو نوسو ميں بيچا تو مضاربت کا را?س المال نوسو ہي ہے (ج) رافع بن خديج فرماتے ہيں کہ ميرے چچا فرماتے تھے کہ حضور? کے زمانے ميں لوگ زمين کو کرايہ پر ليتے اس کے بدلے جو اونچي جگہ پر اگتي ،يا زمين والا کچھ خاص چيز مستثني کر ليتا تو حضور? نے اس سے منع فرمايا (د) حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ ايک آدمي نے کہا ميں آپ سے باغ کا پھل سو دينار ميں بيچتا ہوں مگر پچاس فرق تو حضرت قتادہ نے اس کو ناپسند فرمايا?