مثل البغل]١٣٣٥[ (٣٣) وکل شرکة فاسدة فالربح فیھا علی قدر رأس المال ویبطل شرط التفاضل]١٣٣٦[ (٣٤) واذا مات احد الشریکین او ارتد ولحق بدار الحرب بطلت الشرکة۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ شرکت فاسدہ میں مدد کرنے والے کو یا جس کا سامان استعمال ہوا ہے ان کو اس کی اجرت مثل مل جائیگی لغت استقی : پانی پلانا،سیراب کرنا۔ الراویة : مشک،چرس۔
]١٣٣٥[(٣٣) ہر فاسد شرکت میں نفع اس میں اصل مال کے حساب سے تقسیم ہوگااور کمی بیشی کی شرط باطل ہوگی۔
تشریح جن جن موقعوں پر شرکت فاسد ہو جائے تو جس شریک کا جتنا مال ہوگااسی حساب سے نفع تقسیم کیا جائے گا۔اور اگر حصہ سے زیادہ نفع لینے کی شرط ہو تو وہ باطل ہوگی۔
وجہ شرکت فاسدہ میں نفع اصل مال کے تابع ہوتا ہے۔جس طرح مزارعت فاسدہ میں غلہ بیج کے تابع ہو کر تمام غلہ بیج والے کو مل جاتا ہے۔پس جب نفع اصل مال کے تابع ہوا تو جس کا جتنا مال ہوگا اسی حساب سے نفع تقسیم ہوگا (٢) نفع اصل مال کے تابع ہونے کی دلیل یہ اثر ہے۔عن مجاھد قال اشترک اربعة رھط علی عھد رسول اللہ ۖ فی زرع فقال احدھم قبلی الارض وقال الآخر قبلی الفدان وقال الآخر قبلی البذر وقال الآخر علی العمل فلما استحصد الزرع تفاتوافیہ الی النبی ۖ فجعل الزرع لصاحب البذر والغی صاحب الارض وجعل لصاحب الفدان شیئامعلوما و جعل لصاحب العمل درھما کل یوم (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٣٧٧ القوم یشترکون فی الزرع، ج رابع، ص٥٠٦،نمبر٢٢٥٥٦) اس اثر میں پوری زراعت دانے والے کو دی گئی۔کیونکہ زراعت پیدا ہونے کی اصل جڑ بیج ہی ہے۔اسی پر قیاس کرتے ہوئے نفع اصل مال کی پیداوار ہے اس لئے نفع مال کے حساب سے تقسیم ہوگا۔اور کمی زیادتی کی شرط باطل ہوگی۔مصنف عبد الرزاق نمبر ١٥١١٠ میں حضرت ابو قلابہ کا یہ جملہ ہے ۔عن ابی قلابة الضمان علی من تعدی والربح لصاحب المال (ب) (مصنف عبدالرزاق ، باب ضمان المقارض اذا تعدی ولمن الربح ج ثامن ص ٢٥٣ نمبر ١٥١١٠)
]١٣٣٦[(٣٤) اگر شریک میں سے کوئی ایک مر جائے یا مرتد ہو جائے اور دار الحرب چلا جائے تو شرکت باطل ہو جائے گی۔
وجہ شرکت کے لئے شریک کا وکیل ہونا شرط ہے۔ اور مرجانے سے وکالت ختم ہو جاتی ہے اس لئے شرکت ختم ہو جائے گی۔مرتد ہو کر دار الحرب چلے جانے سے بھی شرکت ختم ہو جائے گی۔کیونکہ مرتد ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ واپس نہیں آئے گا تو گویا کہ مرنے کے حکم میں ہو گیا
حاشیہ : (الف) مجاہد نے فرمایا کہ حضورۖ کے زمانے میں چار آدمی ایک کاشتکاری میں شریک ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہا میری جانب سے زمین ہے۔دوسرے نے کہا میری جانب سے بیل ہیں۔تیسرے نے کہا میری جانب سے بیج ہے ۔اور چوتھے نے کہا کہ کام کرنا میرے ذمے ہے۔پس جب کھیتی کٹی تو حضورۖ کے پاس اختلاف لے کر آئے تو آپۖ نے کاشتکاری بیج والے کو دی۔اور زمین والے کو لغو قرار دیا۔اور بیل والے کو کچھ معلوم چیز دی۔اور کام والے کو ہر دن کے لئے ایک ایک درہم دیا(ب) ابی قلابہ فرماتے ہیں کہ ضمان اس پر ہے جس نے زیادتی کی اور نفع مال والے کے لئے ہوگا۔