Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

264 - 457
احتطبہ فھو لہ دون صاحبہ]١٣٣٤[ (٣٢) واذا اشترکا ولاحدھما بغل وللآخر راویة یستقی علیھا الماء والکسب بینھما لم تصح الشرکة والکسب کلہ للذی استقی الماء وعلیہ اجر مثل الراویة وان کان العامل صاحب البغل وان کان صاحب الراویة فعلیہ اجر 

تشریح  یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ جو چیزیں مباح ہیں اور اس پرجو قبضہ کرلے اسی کی مفت ہو جاتی ہیں۔ان میں شرکت کی ضرورت نہیں اور نہ ان میں وکالت درست ہے۔  
وجہ  کیونکہ جوں ہی اس پر قبضہ کر لیا وہ چیز اس کی ہو گئی تو دوسرے کی وکالت کی کیا ضرورت ہے ؟ مثلا ایندھن کی لکڑی جنگلوں میں مفت ملتی ہے جو اس کو چنے گا اسی کی ہو جائے گی۔گھاس جنگلون میں مفت ملتی ہے اس لئے جو اس کو کاٹے گا اسی کی ہو جائے گی۔یہی حال شکار کے جانور کا ہے (٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے کہ جو ان مباح چیزوں پر قبضہ کرے گا اسی کی ہو جائے گی۔عن ابیض بن جمال ... فقال رسول اللہ ۖ ھو منک صدقة وھو (الملح) مثل الماء العد من وردہ اخذہ (الف) (ابن ماجہ شریف، باب اقطاع الانہار والعیون ص ٣٥٥ نمبر ٢٤٧٥) اس حدیث میں ہے کہ نمک وغیرہ پر جو قبضہ کرے گا اسی کا ہو جائے گا۔  
نوٹ  اگر دونوں نے ملکر لکڑی چنی تو دونوں کو آدھی آدھی لکڑی ملے گی۔ اور اگر ایک نے لکڑی جمع کی اور دوسرے نے اس کی مدد کی تو مدد کرنے والے کو اس کی اجرت ملے گی اور لکڑی تمام کی تمام جمع کرنے والے کی ہوگی۔  
اصول  مباح چیزوں میں شرکت صحیح نہیں ہے۔  
لغت  الاحتطاب  :  حطب سے مشتق ہے ،جمع کرنا۔  الاحتشاش  :  حشیش سے مشتق ہے،گھاس کاٹنا۔  الاصطیاد  :  صید سے مشتق ہے،شکار کرنا۔
]١٣٣٤[(٣٢)اگر دو آدمی شریک ہو جائے ان مین سے ایک کا خچر ہے اور دوسرے کا مشک ہے کہ اس سے پانی کھیچیںگے اور کمائی دونوں کی ہوگی تو یہ شرکت صحیح نہیں ہے۔کمائی اسی کی ہوگی جس نے پانی کھینچا ہے۔ہاں اس پر مشک کی اجرت مثل واجب ہوگی اگر کام کرنے والا خچر والا ہے۔ اور اگر کام کرنے والا مشک والا ہے تو اس پر خچر کی اجرت مثل واجب ہوگی۔  
تشریح  دو آدمی ملے ،ایک کا خچر ہے اور دوسرے کا مشک ہے کہ اس سے پانی کھینچ کر پلائیںگے اور نفع کمائیںگے۔تو اس صورت میں جس نے کام کیا ہے پوری اجرت اسی کی ہوگی۔اور دوسرے کو اس کی چیز کی اجرت مل جائے گی۔ پس اگر خچر والے نے پانی پلایا تو نفع اس کا ہوگا اور مشک والے کو مشک کی اجرت واجب ہوگی۔اور مشک والے نے کام کیا ہے تو نفع مشک والے کا ہوگا اور خچر والے کو خچر کی اجرت ملے گی۔  وجہ  پانی مباح ہے اس کے نکالنے میں شرکت کرنا شرکت فاسدہ ہے اس لئے شرکت فاسد ہوگی۔اس لئے جس آدمی نے پانی پر قبضہ کیا پانی اسی کا ہوا اور نفع بھی اسی کا ہوا۔اور دوسرے کو اس کی چیز کی اجرت مل جائے گی۔  

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا یہ تمہاری جانب سے صدقہ ہے اور نمک تیار کئے ہوئے پانی کی طرح ہے جو اس پر آئے گا وہ اس کو لے لیگا۔

Flag Counter