]١٣٣٧[ (٣٥) ولیس لواحد منھما لصاحبہ ان یؤدی زکوة مال الآخر الا باذنہ]١٣٣٨[ (٣٦) فان اذن کل واحد منھما لصاحبہ ان یؤدی زکوتہ فادی کل واحد منھما فالثانی ضامن سواء علم باداء الاول او لم یعلم عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی وقالا رحمھما اللہ تعالی ان لم یعلم لم یضمن ۔
اس لئے وکالت ختم ہو گئی۔
]١٣٣٧[(٣٥) شریک میں سے کسی ایک کے لئے جائز نہیں ہے کہ دوسرے کے مال کی زکوة ادا کرے مگر اس کی اجازت سے۔
تشریح دوسرے شریک کے حصے میں جو مال آتا ہے اگر وہ نصاب زکوة کی مقدار ہے تو پہلے شریک کے لئے جائز نہیں ہے کہ بغیر اس کے حکم اور اجازت کے اس کی زکوة ادا کرے،ہاں اگر وہ زکوة ادا کرنے کی اجازت دے تو زکوة ادا کر سکتا ہے۔
وجہ زکوة دینا تجارت کے اعمال میں سے نہیں ہے اس لئے اس کا اختیار نہیں رکھتا۔
]١٣٣٨[(٣٦)پس اگر ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو اپنی زکوة ادا کرنے کی اجازت دی ،پھر دونوں میں سے ہر ایک نے زکوة ادا کردی تو بعد میں دینے والا ضامن ہوگا چاہے اس کو پہلے والے کے دینے کی خبر ہو یا نہ ہو امام صاحب کے نزدیک۔اور صاحبین فرماتے ہیں اگر اسے معلوم نہ ہو تو ضامن نہیں ہوگا ۔
تشریح ہر ایک شریک نے دوسرے کو زکوة ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔پھر دونوں اپنی اپنی زکوة بھی ادا کی اور شریک کی بھی ادا کردی۔تو جس شریک نے بعد میں اپنے شریک کی زکوة ادا کی وہ تو زکوة واجب نہیں ہوئی وہ تو نفلی صدقہ ادا ہو گیا۔کیونکہ پہلے شریک نے تو اپنی زکوة پہلے ہی ادا کردی تھی۔اس لئے بعد والے کا نفلی صدقہ ہوا ۔ اب بعد میں ادا کرنے والا پہلے والے کا ضامن ہوگا یا نہیں ؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ چاہے بعد والے کو پہلے والے کے ادا کرنے کی خبر ہو یا نہ ہو ہر حال میں وہ ضامن ہوگا۔
وجہ پہلے شریک نے جوں ہی زکوة ادا کی تو دوسرا شریک زکوة ادا کرنے کی وکالت سے معزول ہو گیا۔اور جب وہ معزول ہو گیا تو اس کا ادا کرنا بیکار ہو گیا اس لئے جو کچھ شرکت کے مال سے ادا کیا اس کا حصے دار کے لئے ضمان ہوگا۔چاہے اس کو معزول ہونے کی خبر نہ ہو۔
صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر بعد والے کو پہلے کے ادا کرنے کی خبر ہوتو تب تو ضامن ہوگا اور اگر خبر نہ ہو تو ضامن نہیں ہوگا۔
وجہ بعد میں ادا کرنے والے شریک کو زکوة ادا کرنے کی اجازت تھی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ فقیر کو مالک بنانے کی اجازت تھی،چاہے وہ واجب زکوة کے طور پر ہو یا نفلی زکوة کے طور پر۔اور اس کے حکم کے مطابق اس نے کی۔اور اس کو پہلے والے کی زکوة ادا کر دینے کی خبر نہیں تھی اس لئے وہ ضامن نہیں ہوگا (٢) ادائیگی زکوة کی خبر کے بغیر اس نے اجازت کے مطابق عمل کیا ہے اس لئے وہ ضامن نہیں ہوگا۔اس لئے کہ علم کے بغیر وہ ادائیگی زکوة سے معزول نہیں ہوا۔