Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

263 - 457
یشتریہ ]١٣٣٢[(٣٠) فان شرطا ان یکون المشتری بینھما نصفان فالربح کذلک ولا یجوزان یتفاضلا فیہ وان شرطا ان المشتری بینھما اثلاثا فالربح کذلک ]١٣٣٣[(٣١) ولا یجوز الشرکة فی الاحتطاب والاحتشاش والاصطیاد وما اصطادہ کل واحد منھما او 

تشریح  ایک شریک جو کچھ خریدے گا اس میں سے آدھا اس کا ہوگا اور آدھا شریک کا ہوگا۔  
وجہ  اس شرکت میں بھی شریک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے۔اس لئے جو کچھ خریدے گا دوسرے کی وکالت کی وجہ سے آدھا اس کا ہوگا۔
]١٣٣٢[(٣٠)پس اگر دونوں نے شرط کی کہ خریدی ہوئی چیز دونوں کی آدھی آدھی ہوگی تو نفع بھی ایسا ہی ہوگا یعنی آدھا آدھا ہوگا۔اور اس سے کمی زیادتی جائز نہیں ہے۔اور اگر دونوں نے شرط کی کہ خریدی ہوئی چیز تین تہائی ہوگی تو نفع بھی اسی طرح ہوگا۔  
تشریح  اگر دونوں کا خریدا ہوا مال آدھا آدھا ہے تو نفع بھی دونوں کا آدھا آدھا ہوگا ۔اس سے کم زیادہ نفع لینا کسی شریک کے لئے جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ ایک آدمی کی خریدی ہوئی چیز ایک تہائی ہوگی اور دوسرے کی دو تہائی ہوگی تو نفع بھی ہر ایک کو اسی مناسبت سے ہوگا۔یعنی جس کی ایک تہائی ہے اس کو ایک تہائی نفع ملے گا اور جس کی دو تہائی ہے اس کو دو تہائی نفع ملے گا۔اس سے کم زیادہ نفع کی شرط کرنا جائز نہیں ہے ۔
 وجہ  (١) نفع لینے کا مدار تین باتوں میں سے ایک پر ہوتا ہے۔یا تو مال کی وجہ سے نفع لیتا ہو جیسے مضاربت میں مال والے کا مال ہوتا ہے اس لئے وہ نفع لیتا ہے۔یا کام کرنے کی وجہ سے نفع لیتا ہو جیسے مضارب کام کرنے کی وجہ سے نفع لیتا ہے۔اور تیسری شکل یہ ہے کہ ذمہ داری اور ضمان کی وجہ سے نفع لیتا ہو۔شرکت وجوہ میں نفع لینے کی وجہ یہ تیسری شکل ہے۔کیونکہ کسی کے پاس مال تو ہے نہیں اور نہ کوئی کام کرنے کی بنیاد پر نفع لے رہے ہیں۔ اس لئے اپنی ذمہ داری پر جتنا مال لائے گا اسی حساب سے نفع لینے کا مستحق ہوگا۔ اس سے زیادہ نفع لینے سے بغیر ذمہ داری کے نفع لینا ہوگا ۔اس لئے نفع مالم یضمن کے ماتحت ناجائز ہوگا (٢) اور ربح مالم یضمن کی حدیث گزر چکی ہے۔عن ابن عمر قال رسول اللہ ۖ لا یحل سلف وبیع ولا شرطان فی بیع ولا ربح مالم یضمن ولا بیع مالیس عندک (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ ص ١٣٩ نمبر ٣٥٠٤ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی کراھیة بیع مالیس عندہ ص ٢٣٣ نمبر ١٢٣٤) اس لئے اس حدیث کی بنا پر جتنی ذمہ داری لے گا اتنا ہی نفع کا حقدار ہوگا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اگر مال یا عمل نہ ہو بلکہ صرف ذمہ داری کی وجہ سے نفع کا حقدار ہو تو جتنی ذمہ داری ہوگی اتنے ہی نفع کا حقدار ہوگا۔ 
]١٣٣٣[(٣١) نہیں جائز ہے شرکت ایندھن لانے میں،گھاس جمع کرنے میں اور شکار کرنے میں۔اور ان میں جو کوئی بھی شکار کرے گا یا ایندھن لائے گا وہ اسی کا ہوگا نہ کہ دوسرے کا۔  

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے فرمایا ادھار بھی ہو اور بیع بھی ہو یہ جائز نہیں ۔اور ایک بیع میں دو شرطیں ہوں یہ بھی جائز نہیں ۔اور جس چیز کا ذمہ دار نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں ہے۔اور جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کی بیع بھی جائز نہیں ہے۔

Flag Counter