Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

262 - 457
شریکہ]١٣٢٩[ (٢٧) فان عمل احدھما دون الآخر فالکسب بینھما نصفان ]١٣٣٠[ (٢٨) واما شرکة الوجوہ فالرجلان یشترکان ولا مال لھما علی ان یشتریا بوجوھھما ویبیعا فتصح الشرکة علی ھذا ]١٣٣١[(٢٩) وکل واحد منھما وکیل الآخر فیما 

نوٹ  کسی کا کام زیادہ ہو اور نفع کم لے تب بھی جائز ہے۔  
وجہ   اوپر اثر گزر چکا ہے کہ جو شرط کرے اس کے مطابق نفع لے سکتا ہے (٢) بعض مرتبہ نفع کا مدار کام پر نہیں ہوتا بلکہ مہارت اور چالاکی پر ہوتا ہے جبکہ وہ کام کم کرتا ہے لیکن چالاکی کی وجہ سے وہ نفع زیادہ لے جاتا ہے۔اس لئے کام کم ہو اور نفع زیادہ ہو تب بھی جائز ہے۔
]١٣٢٩[(٢٧)پس اگر دونوں میں سے ایک نے کام کیا اور دوسرے نے نہیں کیا پھر بھی کمائی آدھی آدھی ہوگی۔  
وجہ  چونکہ ایک نے کام لیا تو وکالت کے طور پر آدھا کام دوسرے کے ذمے بھی ہو گیا تو گویا کہ اس نے بھی کام کیا (٢) کام نہ کرے تو کام کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے ۔لیکن شرط آدھے آدھے نفع کی طے ہوئی ہے اس لئے شرط کے مطابق نفع آدھا آدھا ہی ہوگا ۔
 اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ نفع کی تقسیم کا مدار شرط طے ہونے کے مطابق ہے۔
]١٣٣٠[(٢٨) شرکت وجوہ یہ ہے کہ دو آدمی شریک ہو جائیں اور ان دونوں کے پاس مال نہ ہو اس بات پر کہ دونوں اپنے اپنے تعلقات سے خریدیںگے اور بیچیںگے تو اس طرح شرکت صحیح ہے۔  
تشریح   شرکت وجوہ کی صورت یہ ہے کہ دونوں شریکوں کے پاس مال نہ ہوں بلکہ اپنے اپنے تعلقات سے دوسروں کے مال ادھار خریدیںاور بیچیںاور نفع کمائیں۔اس طرح دو آدمی شرکت کر لے تو جائز ہے۔اور اس شرکت کو وجوہ اس لئے کہتے ہیں کہ چہرہ اور رعب سے مال خریداور بیچ رہا ہے۔اس لئے اس شرکت کو شرکت وجوہ کہتے ہیں۔  
وجہ  اس شرکت کے جواز کا ثبوت اس لمبے اثر میں ہے۔قال اخبرنی ابی قال کنت ابیع البز فی زمان عمر بن الخطاب وان عمر قال لایبیعہ فی سوقنا اعجمی فانھم لم یفقھوا فی الدین ولم یقیموا فی المیزان والمکیال قال یعقوب فذھبت الی عثمان بن عفان فقلت لہ ھل لک غنیمة باردة ؟ قال ماھی ؟ قلت بز قد علمت مکانہ ببیعہ صاحبہ برخص لایستطیع بیعہ اشتریہ لک ثم ابیعہ لک قال نعم الخ (الف) (موطا امام محمد ، باب الشرکة فی البیع ص ٣٤٧) اس اثر میں حضرت یعقوب کے پاس مال نہیں تھا،حضرت عثمان سے کپڑا لیکر شرکت کی جس سے معلوم ہوا کہ شرکت وجوہ جائز ہے۔
]١٣٣١[(٢٩)دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوگا اس چیز میں جو خریدا ۔

حاشیہ  :  (الف)میرے باپ نے خبر دی کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں کپڑے کی تجارت کرتا تھا حضرت عمر کے زمانے میں ۔حضرت عمر نے فرمایا میرے بازار میں کوئی عجمی تجارت نہ کرے۔اس لئے کہ وہ دین کونہیں سمجھتے ہیںاور وزن صحیح نہیں کرتے ہیں۔حضرت یعقوب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس گیااور پوچھا کیا آپ کے پاس غنیمت باردہ ہے۔انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ میں نے کہا کپڑا۔میں اس کے بیچنے کی جگہ رخصت کے ساتھ جانتا ہوں جو اس کو بیچ نہیں سکتے ہیں۔آپ کے لئے بیچوںگا پھر آپ کے لئے خریدوں گا۔حضرت عثمان نے فرمایا ہاں۔

Flag Counter