Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

261 - 457
]١٣٢٨[(٢٦) واما شرکة الصنائع فالخیاطان والصباغان یشترکان علی ان یتقبلا الاعمال ویکون الکسب بینھما فیجوز ذلک وما یتقبلہ کل واحد منھما من العمل یلزم 

تشریح  یعنی شریک کے ہاتھ میں شریک کا جو مال ہے وہ امانت کے طور پر ہے۔اور بغیر زیادتی کے ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان لازم نہیں ہوگا۔  وجہ  (١) شریک کی اجازت سے اس کا قبضہ ہے۔اور کسی بدلے کے بغیر قبضہ ہے اس لئے امانت کا قبضہ ہوگا (٢) ان کا استدلال اس اثر سے بھی ہے۔عن صالح بن دینار ان علیا  کان لا یضمن الاجیر المشترک (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٥٤ فی الاجیر یضمن ام لا؟ ج رابع، ص٣١٦،نمبر٢٠٤٨٩) اس اثر میں اجیر مشترک نے مالک کی اجازت سے قبضہ کیا ہے اس لئے اس پر حضرت علی نے ضمان لازم نہیں کیا۔اسی طرح شریک نے مالک کی اجازت سے قبضہ کیا ہے اس لئے اس کا قبضہ امانت کا قبضہ ہوگا (٢) اثر میں ہے۔ عن الحسن قال المضارب مؤتمن وان تعدی امرک (مصنف عبد الرزاق ، باب ضمان المقارض اذا تعدی ولمن الربح، ج ثامن، ص ٢٥٥ ،نمبر ١٥١٢١) اس اثر میں مضارب امین ہے تو شریک بھی امین ہوگا اور جو مال اس کے ہاتھ میں ہے وہ امانت کا مال ہے۔
]١٣٢٨[(٢٦)اور شرکت صنائع یہ ہے کہ دو درزی یا دو رنگریز شریک ہو جائیں اس بات پر کہ دونوں کام لیںگے اور کمائی دونوں میں تقسیم ہوگی،پس یہ جائز ہے ۔اور دونوں جو کام قبول کریںگے تو اس کو بھی لازم ہوگا اور اس کے شریک کو بھی لازم ہوگا۔  
تشریح  دو کاریگر شریک ہو جائیں کہ ہم دونوں کام لیںگے اور کام کرکے دیںگے اور جو نفع ہوگا اس میں دونوں آدھا آدھا لے لیںگے یا شرط کے مطابق لیںگے ۔ چونکہ کاریگری مین شرکت کی ہے اس لئے اس کو شرکت صنائع کہتے ہیں۔اس صورت میں ایک شریک جو کام لے گا وہ دوسرے پر لازم ہوگا۔اور دوسرا شریک بھی اس کام کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔
 وجہ  (١) شرکت صنائع کا ثبوت اس حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ قال اشترکت انا و عمار و سعد فیما نصیب یوم بدر قال فجاء سعد باسیرین ولم اجیٔ انا و عمار بشیء (ب)(٢) (ابو داؤد شریف ، باب فی الشرکة علی غیر رأس مال ص ١٢٤ نمبر ٣٣٨٨ نسائی شریف ،باب شرکة الابدان ص ١٤١ نمبر ٣٩٦٩ ابن ماجہ شریف، باب الشرکة والمضاربة ص ٣٢٧ نمبر ٢٢٨٨) اس حدیث میں تین آدمیوں نے کام کرنے اور قیدی لانے پر شرکت کی جس سے معلوم ہوا کہ شرکت صنائع جائز ہے۔ اور نفع کے سلسلہ میں اثر گزر چکا ہے۔عن علی فی المضاربة والربح علی ما اصطلحوا علیہ (ج) (مصنف عبد الرزاق نمبر ١٥٠٨٧) کہ جس پر بات طے ہو جائے وہ نفع ہوگا (٢)یہ نفع اس بنیاد پر ہے کہ ایک آدمی دوسرے کے کام کا ذمہ دار ہے اور کام کر بھی رہاہے۔ اس لئے شرکت بھی صحیح ہے اور نفع لینا بھی صحیح ہے۔  
فائدہ   امام شافعی اور امام زفر کے نزدیک شرکت صنائع صحیح نہیں ہے۔  
وجہ  وہ فرماتے ہیں کہ نفع اور شرکت کا مدار رأس المال ہے اور یہاں رأس المال نہیں ہے۔اس لئے شرکت صحیح نہیں ہے۔  

حاشیہ  :  (الف) صالح بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت علی اجیر مشترک کو ضامن نہیں بناتے تھے(ب) عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور عمار اور سعد شریک ہوئے اس بارے میں کہ جنگ بدرکے دن جو کچھ حاصل ہو اس میں ۔پس حضرت سعد دو قیدی اور میں اور عمار کچھ بھی نہیں لائے(ج) مضاربت کے بارے میں حضرت علی فرماتے ہیں کہ نفع اس کے مطابق ہوگا جس پر صلح ہو گئی۔

Flag Counter