اذا اشترط لاحدھما دراھم مسماة من الربح ]١٣٢٦[(٢٤) ولکل واحد من المفاوضین وشریکی العنان ان یبضع المال ویدفعہ مضاربة ویوکل من یتصرف فیہ ویرھن ویسترھن ویستأجر الاجنبی علیہ ویبیع بالنقد والنسیئة ]١٣٢٧[(٢٥)ویدہ فی المال ید امانة
وجہ مان لیا جائے کہ کسی موقع پر صرف پچاس درہم ہی نفع ہوا تو وہ صرف ایک کو مل جائے گا اور دوسرا منہ تکتا رہ جائے گا جس سے اس کو ضرر ہوگا۔اس لئے متعین درہم ایک کے لئے مخصوص ہو اس شرط کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے (٢) حدیث میں اس قسم کے تخصص کو منع فرمایا ہے۔عن رافع بن خدیج قال حدثنی عمی انھم کانوا یکرون الارض علی عھد النبی ۖ بما ینبت علی الارباع او بشیء یستثنیہ صاحب الارض فنھی النبی ۖ عن ذلک (الف) (بخاری شریف، باب کراء الارض بالذھب والفضة ص ٣١٦ نمبر ٢٣٤٦) اس حدیث میںہے کہ زمین کی بٹائی میں کچھ مخصوص زراعت کو مستثنی کر لینے کو آپۖ نے منع فرمایاہے۔اس لئے شرکت میں کچھ خاص نفع کو مستثنی کر لینا بھی جائز نہیں ہے(٣) عن ابن المسیب قال یکرہ ان یبیع النخل ویستثنی منہ کیلا معلوما(ب) (مصنف عبدالرزاق، باب یبیع الثمرة ویشترط منھا کیلا ج ثامن ص ٢٦٢ نمبر ١٥١٥٠)
]١٣٢٦[(٢٤) مفاوضہ اور عنان کے ہر شریک کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی کو مال دیدے بضاعت کے طور پر اور مضاربت کے طور پر اور وکیل بنائے ایسے آدمی کو جو مال شرکت میں تصرف کرے اور رہن کو دے یا رہن پر رکھ لے اور کسی اجنبی کو نوکر رکھ لے اور بیچ دے نقد اور ادھار تشریح یہ مسائل اس قاعدے پر ہیں کہ تجارت کرنے میں جن جن کامون کی ضرورت پڑتی ہے یا جن جن کامون سے نفع حاصل ہو سکتا ہے وہ کام شرکت مفاوضہ اور شرکت عنان کے دونوں شریک کر سکتے ہیں۔ مثلا مال بضاعت پر کسی کو دیدے یعنی کسی کو مال دے کہ تم اس میں کام کرو اور اس کا نفع بڑھاؤ۔کچھ اجرت دے دیںگے اس کو بضاعت پر دیناکہتے ہیں۔یاکسی کو مال دے کہ تم اس میں کام کرو اور نفع میں دونوں شریک ہوںگے اس کو مضاربت پر دینا کہتے ہیں۔یا کسی کو مال خریدنے کا وکیل بنادے تاکہ وہ اس میں تصرف کرے یعنی خریدو فروخت کرے ۔یا کسی کا قرض آگیا تو اس کی وجہ سے شرکت کا مال رہن پر رکھ دیااس کو رہن رکھنا کہتے ہیں۔یا کسی کو شرکت کا مال دیا جس کی وجہ سے اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے جس کو رہن پر لینا کہتے ہیں۔یا کام کرنے کے لئے کسی اجنبی آدمی کو نوکر رکھ لیا۔ اسی طرح شرکت کا مال نقد بھی بیچ سکتا ہے اور ادھار بھی بیچ سکتا ہے ۔تجارت میں ان کاموں کی ضرورت پڑتی ہے ۔یہ عام رواج ہے اس لئے اوپر کے سارے کام شریک کر سکتے ہیں۔
اصول شریک تجارت کے فوائد کے سارے کام کر سکتے ہیں۔
]١٣٢٧[(٢٥)اور شریک کا قبضہ مال میں امانت کا قبضہ ہے۔
حاشیہ : (الف) میرے چچا نے مجھے بیان کیا کہ لوگ حضور کے زمانے میں زمین کو کرایہ پر دیتے تھے جو اگتا تھا اونچی جگہ پر یا کوئی خاص چیز مستثنی کر لیتا زمین والا۔تو حضورۖ نے اس سے منع فرمایا(ب) ابن مسیب مکروہ سمجھتے تھے یہ کہ درخت بیچے اور معلوم کیل مستثنی کرے۔