Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

259 - 457
یشتریا شیئا بطلت الشرکة]١٣٢٣[ (٢١) وان اشتری احدھما بمالہ شیئا وھلک مال الآخر قبل الشراء فالمشتری بینھما علی ما شرطا ویرجع علی شریکہ بحصتہ من ثمنہ ]١٣٢٤[(٢٢) ویجوز الشرکة وان لم یخلطا المال ]١٣٢٥[(٢٣) ولا یصح الشرکة 

وجہ  جس کا مال تھا اسی کے ہاتھ سے ہلاک ہوا تب تو ابھی شرکت ہی نہیں ہوئی اور مال ختم ہوگیا تو اب شرکت کس میں ہوگی ؟ اور اگر دوسرے شریک کے ہاتھ سے مال ہلاک ہوا تو وہ مال اس کے ہاتھ مین امانت تھا اور امانت ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں ہے ۔اور مال خلط ملط ہونے یا کوئی چیز خریدنے سے پہلے ہلاک ہوگیا تو اب شرکت کس چیز کے ذریعہ کرے گا؟ اس لئے شرکت باطل ہو جائے گی۔
]١٣٢٣[(٢١)اور اگر دونوں میں سے ایک نے اپنے مال کے ذریعہ کچھ خرید لیا اور دوسرے کا مال خریدنے سے پہلے ہلاک ہوگیا تو خریدی ہوئی چیز دونوں کے درمیان ہوگی شرط کے مطابق۔اور خریدنے والا شریک سے اس کے حصے کے مطابق ثمن وصول کرے گا۔  
تشریح  دو شریکوں میں سے ایک نے اپنے مال کے ذریعہ کچھ خریدا،دوسرے شریک نے ابھی کچھ خریدا نہیں تھا کہ اس کا مال ہلاک ہوگیا تو خریدی ہوئی چیز شرط کے مطابق دونوں کے درمیان مشترک ہوگی۔اور جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوتا ہے اتنے حصے کی قیمت اس سے وصول کرے گا ۔
 وجہ  چونکہ شرکت میں مال خریدا جا چکا ہے اس لئے وہ مال شرکت کا ہی ہوگا۔اور خریدنے والا دوسرے شریک کا وکیل ہوگا۔اور چونکہ خریدنے والے نے اپنا مال دیا تھا اس لئے اپنے شریک سے اس کے حصے کی قیمت وصول کرے گا۔  
اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ شریک نے وکالت کے طور پر خرید لیا تو دوسرے شریک کا بھی شرط کے مطابق حصہ ہوگا۔
]١٣٢٤[(٢٢)اور شرکت عنان جائز ہے اگر چہ دونوں نے مال خلط ملط نہ کیا ہو۔  
تشریح  دونوں شریکوں کو اپنا اپنا مال دوسرے کے ساتھ خلط ملط کر دینا چاہئے لیکن شرکت عنان میں یہ گنجائش ہے کہ خلط ملط نہ کیا پھر بھی شرکت صحیح ہو جائے گی ۔
 وجہ  یہاں شرکت کا مدار تصرف پر ہے۔اور جو بھی خریدے گا تو آدھا مال اپنے لئے ہوگا اور آدھا مال وکالت کے طور پر شریک کے لئے ہوگا۔ اور جب اس کو بیچیںگے تو شرط کے مطابق اسی مناسبت سے نفع بھی دونوں کے لئے ہوگا۔ اس لئے ملانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔  فائدہ  امام شافعی اور امام زفر  کے نزدیک اس شرکت میں بھی مال کو ملانا ضروری ہے۔  
و جہ  ان کی دلیل اوپر کا اثر ہے جو شرکت مفاوضہ میں گزرا۔
]١٣٢٥[(٢٣)اور نہیں صحیح ہے شرکت اگر شرط لگالے کسی ایک کے لئے نفع مین سے متعین درہم۔  
تشریح  مثلا یوں شرط لگائی کہ نفع میں سے پہلے پچاس درہم مجھے دوگے باقی جو بچیںگے ان میں سے آدھے آدھے،تو اس قسم کی شرط کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔  

Flag Counter