]١٣٢٠[(١٨) ویجوز ان یشترکا ومن جھة احدھما دنانیر ومن جھة الآخر دراھم ]١٣٢١[(١٩) وما اشتراہ کل واحد منھما للشرکة طولب بثمنہ دون الآخر ویرجع علی شریکہ بحصتہ منہ]١٣٢٢[ (٢٠) واذا اھلک مال الشرکة او احد المالین قبل ان
کرنا شروع کردیں تو ان سے بھی صحیح ہے۔اسی طرح شرکت عنان بھی درہم، دیناراور رائج سکوں کے ذریعہ صحیح ہوگی۔سامان کے ذریعہ شرکت عنان صحیح نہیں ہوگی۔
وجہ اثر گزر چکا ہے۔عن محمد قال لایکون الشرکة والمضاربة بالدین والودیعة والعروض والمال الغائب (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٣٢٨ فی الشرکة بالعروض ،ج رابع ،ص ٤٨٤،نمبر٢٢٣٢٤مصنف عبدالرزاق،باب المفاوضین، ج ثامن، ص ٢٥٩ ،نمبر ١٥١٤٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ سامان کے ذریعہ شرکت عنان جائز نہیں ہے۔
]١٣٢٠[(١٨)اور جائز ہے کہ دونوں شریک ہو جائیں اور ایک جانب سے دینار ہوں اور دوسری جانب سے دراہم ہوں۔
وجہ چونکہ دونوں ثمن ہیں اور تقریبا ایک جنس مانے جاتے ہین اس لئے ایک شریک کی جانب سے درہم ہوں اور دوسرے شریک کی جانب سے دینار ہوں اور شرکت کرے تو جائز ہے۔
فائدہ امام شافعی کے نزدیک اس شرکت میں بھی خلط ملط کرنا ضروری ہے۔اور درہم ،دینار دو جنس ہونے کی وجہ سے خلط ملط نہیں ہوسکتے اس لئے ان کے یہاں درست نہیں ہے۔
]١٣٢١[(١٩)جو کچھ خریدا دونوں میں سے ہرایک نے اس کی قیمت اسی سے طلب کی جائے گی نہ کہ دوسرے سے،اور رجوع کرے گا اس کے شریک سے اس کا حصہ۔
تشریح ایک شریک نے شرکت کے لئے مال خریدا تو اس کی قیمت خریدنے والے شریک پر ہی ہوگی۔البتہ جتنی قیمت شریک پر ہو سکتی ہے وہ اس سے وصول کرے۔
وجہ اس شرکت میں شریک دوسرے کا صرف وکیل ہوتا ہے اس لئے جو بھی خریدے گا اس کا آدھا دوسرے شریک کا ہوگا۔لیکن چونکہ کفیل نہیں ہوتا اس لئے بائع آدھا قرض دوسرے شریک سے وصول نہیں کرے گا۔البتہ چونکہ آدھا مال شریک کے لئے ہے اس لئے اس کا حصہ اس سے وصول کرے گا۔
]١٣٢٢[(٢٠)اگر شرکت کا کل مال ہلاک ہو جائے یا کسی چیز کے خریدنے سے پہلے ایک کا مال ہلاک ہو جائے تو شرکت باطل ہو جائے گی تشریح شرکت کا سارا مال ہلاک ہو گیا تو ظاہر ہے کہ مال ہی نہیں رہا تو شرکت کس چیز سے ہوگی ؟ اس لئے شرکت ختم ہو جائے گی۔دوسری شکل یہ ہے کہ دونوں نے ابھی مال خلط ملط نہیں کیا تھا اور کوئی چیز خریدی بھی نہیں تھی کہ ایک شریک کا مال ہلا ک ہو گیا تب بھی شرکت ختم ہو جائے گی
حاشیہ : (الف)حضرت محمد بن سیرین نے فرمایا شرکت اور مضاربت نہیں ہوگی دین سے،امانت کے مال سے،سامان سے اور غائب کے مال سے۔