Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

257 - 457
الوکالة دون الکفالة]١٣١٧[(١٥) ویصح التفاضل فی المال و یصح ان یتساویا فی المال ویتفاضلا فی الربح]١٣١٨[ (١٦) ویجوز ان یعقدھا کل واحد منھما ببعض مالہ دون بعض]١٣١٩[ (١٧) ولا تصح الا بما بینا ان المفاوضة تصح بہ۔ 

آدھا شریک کے لئے ہوگا۔البتہ کفیل نہیں ہوتا یعنی شریک پر جو قرض آئے گا اس کا آدھا دوسرے شریک پر نہیں ڈالے گا۔بلکہ پورا قرض اسی کے ذمہ ہوگاجس نے قرض لیا۔
]١٣١٧[(١٥)اور صحیح ہے کمی بیشی مال میں، اور صحیح ہے کہ برابر ہوں مال میں اور کمی بیشی ہو نفع میں۔  
تشریح  شرکت عنان میں شرکت مفاوضہ کی طرح مال اور نفع میں برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔بلکہ یہ ممکن ہے کہ ایک شریک کا مال کم ہو اور ایک کا مال زیادہ ہو۔اور نفع بھی کم وبیش ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کے مال برابر ہوں لیکن نفع میں کسی کو کم ملنے کی شرط ہواور کسی کو زیادہ ملنے کی شرط ہو ۔
 وجہ  کوئی آدمی زیادہ عقلمند ہوتا ہے اور کوئی کم عقلمند ہوتا ہے اس لئے مال کم ڈالنے کے باوجود اپنی عقلمندی اور مہارت کی وجہ سے زیادہ نفع کا مستحق ہوتا ہے۔اس لئے اگر شرط کرلے کہ میں زیادہ نفع لوںگا اور دوسرا شریک اس پر راضی ہو جائے تو شرکت عنان میں یہ جائز ہے(٢) اثر میں ہے ۔عن جابر بن زید قالوا الربح علی ما اصلحوا علیہ والوضیعة علی المال ھذا فی الشریکین فان ھذا بمائة وھذا بمائتین (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب نفقة المضارب و ضیعتہ ص ٢٤٨ نمبر ١٥٠٨٩)حضرت علی سے منقول ہے ۔والربح علی ما اصلحواعلیہ (ب) (مصنف عبد الرزا ق،ص ٢٤٨ ،نمبر ١٥٠٨٧)ان دونوں اثروں سے معلوم ہوا کہ نفع آپس میں جو طے ہو جائے برابر سرابر یا کم زیادہ وہ جائز ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک شریک ایک سو جمع کرے اور دوسرا دو سو جمع کرے یعنی مال میں کمی زیادتی ہو تب بھی جائز ہے۔
]١٣١٨[(١٦) جائز ہے کہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک اپنے بعض مال سے عقد شرکت کرے نہ کہ کل سے۔  
تشریح  مثلا زید کے پاس چھ سو درہم ہیں ان میں سے تین سو درہم سے شرکت کریںاور تین سو درہم سے شرکت عنان نہ کرے یہ جائز ہے۔  وجہ  اوپر بتایا کہ دونوں شریکوں کا برابر برابر مال ہونا ضروری نہیں ہے۔اس لئے جتنا مال شرکت میں لگانا چاہے لگا سکتا ہے اور جتنا مال نہیں لگانا چاہے نہ لگائے۔  
]١٣١٩[(١٧) اور شرکت عنان صحیح نہیں ہوگی مگر اس نقدوں کے ذریعہ جس کو میں نے بیان کیا کہ شرکت مفاوضہ ان سے صحیح ہے۔  
تشریح  اوپر بیان کیا تھا کہ درہم، دینار اور رائج سکوں کے ذریعہ شرکت مفاوضہ صحیح ہے۔اور چاندی اور سونے کی ڈلی سے لوگ شرکت مفاوضہ

حاشیہ  :  (الف) جابر بن زید نے فرمایا نفع اس کے مطابق ہوگا جس پر صلح ہوئی ہو اور اخراجات مال پر ہوںگے،یہ دونوں شریک ہوںگے ،یہ ایک سو جمع کرے اور یہ دوسو جمع کرے (ب) نفع اس پر ہوگا جس پر صلح ہو جائے یعنی جو طے ہو جائے۔

Flag Counter