Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

256 - 457
]١٣١٤[(١٢) ولا یجوز فیما سوی ذلک الا ان یتعامل الناس بہ کالتبر والنقرة فتصح الشرکة بھما ]١٣١٥[(١٣) وان اراد الشرکة بالعروض باع کل واحد منھما نصف مالہ بنصف مال الآخر ثم عقد الشرکة ]١٣١٦[(١٤) واما شرکة العنان فتنعقد علی 

فائدہ  امام مالک فرماتے ہیں کہ کیلی اور وزنی چیز ہواور  دونوں شریک کی ایک جنس ہو مثلا دونوں گیہوں ملا کر شرکت کرے تو جائز ہے۔  
وجہ  ان کی دلیل یہ اثر ہے۔عن ابن سیرین قال المفاوضة فی المال اجمع (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین  ج ثامن ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٣٨) اس اثر میں ہے کہ تمام مالوں میں شرکت مفاوضہ کر سکتے ہیں۔
]١٣١٤[(١٢)اور نہیں جائز ہے شرکت مفاوضہ ان کے علاوہ میں مگر یہ کہ لوگ اس سے معاملہ کرنے لگیں،جیسے سونے چاندی کی ڈلی ،پس صحیح ہے شرکت ان دونوں سے۔  
تشریح  درہم ، دینار اور رائج سکوں کے علاوہ میں شرکت مفاوضہ جائز نہیں ہے۔البتہ اگر لوگ کسی خاص چیز مثلا چاندی اور سونے کی ڈلی میں شرکت مفاوضہ کرنے لگیں تو پھر جائز ہو جائے گی۔  
وجہ  چاندی اور سونے کی ڈلی بھی درہم اور دینار کے حکم میں ہیں۔کہ وہ بھی متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتی ہیں۔  
لغت  التبر  :  سونے کی ڈلی۔  النقرة  :  چاندی کا پگھلا ہوا ٹکڑا۔
]١٣١٥[(١٣)اور اگر سامان کے ذریعہ شرکت کرنے کا ارادہ کرے تو دونوں میں سے ہر ایک اپنا آدھا مال دوسرے کے آدھے مال کے بدلے بیچے پھر عقد شرکت کرے۔  
تشریح  چونکہ دونوں کے مالوں کا برابر ہونا ضروری ہے اس لئے سامان میں شرکت کرنا چاہئے تو یہی صورت ہے کہ اپنا آدھا سامان دوسرے کے آدھے مال کے بدلے بیچے پھر شرکت ملک کرکے شرکت مفاوضہ کرے۔  
وجہ  براہ راست سامان ملا کر شرکت مفاوضہ کرنا صحیح نہیں ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن محمد ابن سیرین قال لا یکون الشرکة والمضاربة بالدین والودیعة والعروض والمال الغائب (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ٣٢٨ فی الشرکة بالعروض،ج رابع، ص ٤٨٤،نمبر٢٢٣٢٤) اس اثر میں فرمایا کہ سامان کے ذریعہ شرکت کرنا صحیح نہیں ہے۔
]١٣١٦[(١٤)بہر حال شرکت عنان تو وہ وکالت پر منعقد ہوتی ہے نہ کہ کفالت پر۔  
تشریح  عنان کے معنی اعراض کرنا ہے ۔چونکہ اس شرکت میں کفالت سے اعراض کرنا ہے اس لئے اس کو شرکت عنان کہتے ہین۔اس شرکت میں ہر ایک شریک سامان خریدنے میں دوسرے کا وکیل بنتا ہے کہ مال تجارت میں سے جو کچھ خریدے اس میں سے آدھا اپنے لئے ہوگا اور 

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابن سیرین نے فرمایا شرکت مفاوضہ تمام مالوں میں ہو سکتی ہے(ب) محمد ابن سیرین نے فرمایا شرکت اور مضاربت نہیں ہوگی دین سے،امانت کے مال سے اور سامان سے اور غائب کے مال سے۔

Flag Counter