Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

255 - 457
الشرکة او وھب لہ ووصل الی یدہ بطلت المفاوضة وصارت الشرکة عنانا]١٣١٣[ (١١) ولا تنعقد الشرکة الا بالدراھم والدنانیر والفلوس النافقة۔

گی اور شرکت عنان بن جائے گی ۔
 وجہ  شرکت مفاوضہ میں تجارت کے متعلقات تمام ہی چیزوں میں شرکت ہوتی ہے۔اور اوپر گزرا کہ دونوں شریکوں کے مال برابر ہونے چاہئے ۔اور یہاں وراثت اور ہبہ کے ذریعہ مالک ہونے کی وجہ سے دونوں کے مال برابر نہ رہے بلکہ ایک کا زیادہ ہو گیا اس لئے شرکت مفاوضہ باطل ہو جائے گی۔البتہ چونکہ شرکت عنان میں مال کا برابر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ مال کم زیادہ ہو تب بھی شرکت عنان جائز ہے۔اس لئے وہ شرکت عنان بن جائے گی (٢) اثر میں ہے اخبرنا سفیان قال لاتکون المفاوضة حتی تکون سواء فی المال وحتی یخلطا اموالھما (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ج ثامن ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٤٠) اس اثر میں ہے کہ دونوںکے مال برابر ہونے چاہئے اور دونوں کو ملانا بھی چاہئے۔اور یہاں ایک کا مال زیادہ ہو گیا اس لئے شرکت مفاوضہ باطل ہو جائے گی۔ عن الشعبی قال کل شریک بیعہ جائز فی شرکة الا شریک المیراث (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ج ثامن ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٣٩)اس سے پتہ چلا کہ میراث میں شرکت نہیں ہوگی۔  
نوٹ  ایسے مال کا وارث بنا جس میں شرکت مفاوضہ درست نہیں جیسے سامان وغیرہ کا مالک بنا تو اس سے شرکت مفاوضہ باطل نہیں ہوگی۔اس لئے کہ وہاں دونوں شریکوں کے مال میں کمی زیادتی کا معاملہ نہیں ہوا۔  
لغت  ووصل الی یدہ  :  ہبہ کی چیز پر شریک کا قبضہ ہو اس کی شرط اس لئے لگائی کہ ہبہ میں قبضہ سے پہلے آدمی اس چیز کا مالک ہی نہیں ہوتا۔اس لئے یہ قید لگائی کہ ہبہ ہوا ہو اور اس پر قبضہ بھی ہو گیا ہو تب شرکت مفاوضہ باطل ہوگی۔
]١٣١٣[(١١)اور شرکت مفاوضہ نہیں منعقد ہوگی مگر درہم، دینار اور رایج سکوں سے۔  
تشریح  جو ثمن ہیں ان میں شرکت مفاوضہ ہوگی،سامان میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوگی۔ہاں سامان بیچ کر پھر برابر برابر درہم یا دینار ملائے اور شرکت کرے تو ہوگی ۔ 
وجہ  (١) اثر میں ہے۔اخبرنا سفیان قال لاتکون المفاوضة  حتی تکون سواء فی المال وحتی یخلطا اموالھما ولا تکون المفاوضة والشرکة بالعروض ان یجییٔ ھذا بعرض وھذا بعرض(ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ج ثامن ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٤٠) اس اثر میں ہے کہ سامان میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوگی (٢)اوپر اثر میں آیا کہ کہ دونوں کے مال برابر ہوں ۔لیکن سامان بیچا اور کسی کی قیمت زیادہ آئی اور کسی کی کم تو مال میں برابری نہیں ہوئی اس لئے سامان میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوگی۔  

حاشیہ  :  (الف) حضرت سفیان نے فرمایا شرکت مفاوضہ میں نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال میں برابر ہو اور یہاں تک کہ دونوں کے مال ملائے جائیں(ب) حضرت سفیان نے فرمایا مفاوضہ اور شرکت نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال میں برابر ہو اور یہاں تک کہ دونوں مال خلط ملط نہ کر دیئے جائیں اور مفاوضہ اور شرکت نہیں ہوگی سامان کے ذریعہ کہ یہ سامان لے کر آئے اور یہ سامان لے کر آئے۔

Flag Counter