Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

254 - 457
اھلہ وکسوتھم ]١٣١١[(٩) وما یلزم کل واحد من الدیون بدلا عما یصح فیہ الاشتراک فالآخر ضامن لہ]١٣١٢[ (١٠) فان ورث احدھما مالا مما تصح فیہ 

جب بھی خریدے گا تو وہ صرف اپنے لئے ہوںگے۔ شریک کے لئے نہیں ہوںگے۔  
وجہ  کیونکہ ان میں نہ شرکت ہے اور نہ ان میں کفالت ہے (٢) اثر میں گزر چکا ہے کہ صرف متعلقات تجارت میں کفالت ہوگی۔عن ابن سیرین ...فاذا کانت شرکة مفاوضة فامر کل واحد جائز علی صاحبہ فی البیع والشراء والاقالة (الف) مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٣٧) اس اثر میں ہے کہ خرید وفروخت اور اقالہ دوسرے شریک پر ہوگا۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ متعلقات تجارت دوسرے شریک پر ہوںگے اور اہل و عیال کی ضروریات متعلقات تجارت میں نہیں ہیں اس لئے وہ کفالت میں شامل نہیں ہوںگے۔  
اصول  شرکت مفاوضہ میں متعلقات تجارت وکالت اور کفالت میں شامل ہوںگے باقی نہیں۔  
لغت  کسوة  :  کپڑا وغیرہ۔
]١٣١١[(٩) اور جو کچھ دونوں میں سے ہر ایک کو قرض لازم ہو اس کے بدلے میں جس میں شرکت صحیح ہے تو دوسرا شریک اس کا ضامن ہوگا  تشریح  تجارت اور اس کے متعلقات کی وجہ سے دونوں شریکوں میں سے کسی ایک پر قرض لازم ہو گیا تو دوسرا شریک بھی اس کا ضامن ہوگا اور اس کو ادا کرنا ہوگا ۔
 وجہ  شریک پر جو کچھ بھی قرض آئے دوسرا شریک اس کا کفیل ہے۔اس لئے کفالت کی وجہ سے وہ بھی ادا کرنے کا ذمہ دار ہے (٢) اثر میں گزر چکا ہے۔اخبرنا سفیان ... وما ادان واحد من المتفاوضین فقال قد ادنت کذا وکذا فھو مصدق علی صاحبہ وان مات احدھما اخذ الآخر وان شاء الغریم یأخذ ایھما باع سلعتہ اخذ المبتاع ایھما شاء (ب) مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ج ثامن ص ٢٥٩ نمبر ١٥١٤٠) اس اثر میں ہے کہ قرض دینے والا اپنا قرض شریک مفاوضہ میں سے کسی سے بھی وصول کر سکتا ہے۔
]١٣١٢[(١٠)پس اگر وارث ہوا دونوں شریکوں میں سے ایک ایسے مال کا جس میں شرکت صحیح ہے یا اس کو ہبہ کردیا گیا اور پہنچ گیا اس کے ہاتھ تک تو شرکت مفاوضہ باطل ہو جائے گی اور بدل کر شرکت عنان ہو جائے گی ۔
 تشریح  آگے آرہا ہے کہ شرکت مفاوضہ صرف درہم،دنانیر اور رائج سکوں میں ہوتی ہے ان کے علاوہ میں نہیں ۔پس اگر دونوں شریکوں میں سے ایک درہم ، دنانیر یا رائج سکوں کا وارث بن گیا یا کسی نے اس کو ہبہ کر دیا اور شریک نے ان پر قبضہ بھی کر لیا تو شرکت مفاوضہ باطل ہو جائے 

(الف) حضرت ابن سیرین نے فرمایا اگر شرکت مفاوضہ ہوتو ہر ایک کا معاملہ جائز ہے اس کے شریک پر بیع،شراء اور اقالہ میں(ب)حضرت سفیان نے فرمایا...شریک مفاوضہ میں سے کوئی قرض لے ۔پس کہا میں نے ایسا قرض لیا۔میں نے ایسا قرض لیا تو وہ اس کے ساتھی پر تصدیق کی جائے گی(یعنی ساتھی پر بھی اس کی ذمہ داری ہوگی) اور اگر دونوں میں سے ایک مرگیا تو دوسرے سے لے گا۔اور قرضخواہ چاہے تو قیمت لے جس سے بھی اپنا سامان بیچا ہو اور مشتری سے بھی چاہے لے گا۔

Flag Counter