]١٣٠٨[ (٦) ولا بین الصبی والبالغ ولا بین المسلم والکافر ]١٣٠٩[(٧) فتنعقد علی الوکالة والکفالة ]١٣١٠[(٨) وما یشتریہ کل واحد منھما یکون علی الشرکة الا طعام
]١٣٠٨[(٦)اور نہیں جائز ہے شرکت مفاوضہ بچے اور بالغ کے درمیان اور نہ مسلمان اور کافر کے درمیان۔
وجہ اوپر گزر گیا کہ شرکت مفاوضہ میں ہر ایک شریک دوسرے کے کفی بھی ہوتے ہیں اور وکیل بھی ہوتے ہیں۔اور بچہ نہ کفیل بن سکتا ہے اور نہ وکیل۔ اس لئے بچہ اور بالغ کے درمیان شرکت مفاوضہ نہیں ہوگی۔
اور مسلمان اور کافر کے درمیان اس لئے نہیں ہوگی کہ مثلا کافر شراب اور سور خریدے تو وہ مسلمان کی وکالت میں نہیں خرید سکتااور ایساکر سکتا کہ آدھی شراب اور آدھا سور اپنے لئے ہو اور آدھی شراب اور آدھا سور مسلمان کے لئے ہو۔ یا وہ سود کا کارو بار کرے تو کفیل ہونے کے ماتحت آدھا سود اپنے لئے اور آدھا سود مسلمان کے لئے ہو۔ ایسا نہیں کر سکتا۔کیونکہ شراب،سور اور سود مسلمان کے لئے حرام ہیں تو چونکہ بہت سے مقامات پر کافر مسلمان کی وکالت اور کفالت نہیں کر سکتا جو شرکت مفاوضہ میں ضروری ہیں۔اس لئے مسلمان اور کافر کے درمیان شرکت مفاوضہ نہیں ہو سکتی۔ شرکت عنان،شرکت صنائع اور شرکت وجوہ ہو سکتی ہیں (٢) اثر میں اس کی ممانعت ہے۔قلت لابن عباس ان ابی جلاب الغنم وانہ مشارک الیھودی والنصرانی قال لا تشارک یھودیا ولا نصرانیا ولا مجوسیا قلت لم ؟ قال لانھم یربون الربوا لایحل (الف) (سنن للبیہقی،باب کراھیة مبایعة من اکثر مالہ من الربا او ثمن المحرم، ج خامس،ص ٥٤٧، نمبر١٠٨٢٢ مصنف ابن ابی شیبة ٣ فی مشارکة الیھودی والنصرانی، ج رابع، ص ٢٧٤،نمبر١٩٩٧٣) اس اثر میں یہودی۔نصرانی اور مجوسی کو شریک کرنے سے منع فرمایا ہے۔کیونکہ وہ سود کا کاروبار کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ شرکت مفاوضہ میں وہ شریک نہیں بن سکتے ۔
فائدہ امام ابو یوسف کے نزدیک کافر کے ساتھ شرکت مفاوضہ جائز ہے۔البتہ مکروہ ہے۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ کافر عاقل بالغ ہے اس لئے وہ وکیل اور کفیل بننے کا اصل ہے۔اس لئے اس کے ساتھ شرکت مفاوضہ ہو سکتی ہے۔
]١٣٠٩[(٧)شرکت مفاوضہ منعقد ہوتی ہے وکالت اور کفالت پر۔
تشریح یعنی دونوں شریکوں میں سے ہر ایک دوسرے کے وکیل ہیں کہ جو کچھ خریدیںگے ان میں آدھا اپنا ہوگا اور آدھا وکالت کے ماتحت شریک کا ہوگا۔اور جو قرض سر پر آئے گا اس میں سے آدھا اپنے سر ہوگا اور آدھا کفیل ہونے کے ماتحت شریک کے ذمے ہوگا۔
وجہ اثر گزر چکا ہے۔(مصنف عبد الرزاق ،نمبر ١٥١٤٠١٥١٣٧)
]١٣١٠[(٨) دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جوکچھ خریدے گا وہ شرکت پر ہوگی سوائے بیوی بچوں کے کھانے اور کپڑے کے۔
تشریح دونوں شریکوں میں سے ہر ایک تجارت کے متعلقات خریدے گا اس میں سے آدھا اپنے لئے ہوگا اور آدھا وکالت کے ماتحت شریک کے لئے ہوگا۔البتہ بال بچوں کے کھانے اور کپڑے اور ان کی ضروریات زندگی کے سامان متعلقات تجارت میں سے نہیں ہیں اس لئے وہ
حاشیہ : (الف) میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ میرے والد بکریوں کو لاتے ہیں اور وہ یہودی اور نصرانی کو شریک کرتے ہیں۔تو ابن عباس نے فرمایا کہ یہودی اور نصرانی کو شریک نہ کرو اور نہ مجوسی کو۔میں نے کہا کیوں ؟ فرمایا وہ سود کا معاملہ کرتے ہین جو حلال نہیں ہے۔